الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
نکاح کے احکام و مسائل
3. باب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيَانِ أَنَّهُ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ ثُمَّ أُبِيحَ ثُمَّ نُسِخَ وَاسْتَقَرَّ تَحْرِيمُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ:
3. باب: متعہ کے حلال ہونے کا پھر حرام ہونے کا پھر حلال ہونے کا اور پھر قیامت تک حرام رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3435
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
وحدثني ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيى ، قالا: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، عن الحسن ، وعبد الله ، ابني محمد بن علي بن ابي طالب، عن ابيهما ، انه سمع علي بن ابي طالب ، يقول لابن عباس: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن متعة النساء يوم خيبر، وعن اكل لحوم الحمر الإنسية ".وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، ابني محمد بن علي بن أبي طالب، عَنْ أَبِيهِمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ".
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے محمد بن علی بن ابی طالب کے بیٹوں حسن اور عبداللہ سے (اور) ان دونوں نے اپنے والد (محمد بن علی ابن حنفیہ) سے روایت کی، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے موقعہ پر، متعۃ النساء، اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے روک دیا تھا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 1407
   صحيح البخاري5523علي بن أبي طالبنهى رسول الله عن المتعة عام خيبر عن لحوم حمر الإنسية
   صحيح البخاري5115علي بن أبي طالبنهى عن المتعة عن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر
   صحيح البخاري4216علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن أكل لحوم الحمر الإنسية
   صحيح مسلم5005علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن لحوم الحمر الإنسية
   صحيح مسلم3435علي بن أبي طالبنهى رسول الله عن متعة النساء يوم خيبر عن أكل لحوم الحمر الإنسية
   صحيح مسلم3431علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن أكل لحوم الحمر الإنسية
   صحيح مسلم3433علي بن أبي طالبنهى عن نكاح المتعة يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية
   جامع الترمذي1121علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء عن لحوم الحمر الأهلية زمن خيبر
   جامع الترمذي1794علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء زمن خيبر عن لحوم الحمر الأهلية
   سنن النسائى الصغرى3368علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء
   سنن النسائى الصغرى4339علي بن أبي طالبنهى عن نكاح المتعة عن لحوم الحمر الأهلية يوم خيبر
   سنن النسائى الصغرى4340علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن لحوم الحمر الإنسية
   سنن النسائى الصغرى3368علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن لحوم الحمر الإنسية
   سنن ابن ماجه1961علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء يوم خيبر عن لحوم الحمر الإنسية
   المعجم الصغير للطبراني481علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم401علي بن أبي طالب نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن اكل لحوم الحمر الإنسية
   بلوغ المرام849علي بن أبي طالبنهى رسول الله عن المتعة عام خيبر
   بلوغ المرام850علي بن أبي طالبنهى عن متعة النساء،‏‏‏‏ وعن اكل الحمر الاهلية يوم خيبر

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 401  
´گدھوں کا گوشت حرام ہے`
«. . . عن على بن ابى طالب رضي الله عنه: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن متعة النساء يوم خيبر وعن اكل لحوم الحمر الإنسية . . .»
. . . سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر والے دن عورتوں کے متعہ اور گدھوں کے گوشت سے منع کر دیا . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 401]

تخریج الحدیث:
[و اخرجه البخاري 4216، 5523، و مسلم 1407/29، من حديث مالك به]

تفقہ:
➊ متعۃ النکاح کسی عورت سے لطف اندوزی کے لئے عارضی ازدواجی تعلق کو کہتے ہیں۔ ابتدائے اسلام میں (اضطراری حالت میں مردار کی طرح) یہ جائز تھا اور بعد میں ہمیشہ کے لئے منع کر دیا گیا۔ سیدنا سبرہ بن معبد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«یا ایھا الناس! انی قد کنت اذنت لکم فی الاستمتاع من النساء وان اللہ قد حرم ذلك الى يوم القيامة»
اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور (اب) اسے اللہ نے قیامت تک کے لئے حرام کر دیا ہے۔۔۔ [صحيح مسلم: 1406/21 [3422] ]
➋ امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ما رايت قوماً أشبه بالنصارى من السبئية» میں نے سبائیوں سے زیادہ نصاریٰ سے مشابہ کوئی قوم نہیں دیکھی۔
اس اثر کے راوی أحمد بن یونس رحمہ اللہ نے فرمایا:
«هم الرافضة» سبائیوں سے مراد رافضی ہیں۔ [الشريعة للاجري ص 955 ح 2028 و سنده صحيح]
➌ بعض علماء اس حدیث اور دیگر احادیث صحیحہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے گدھوں کو حرام نہیں سمجھتے تھے لہٰذا ان علماء کا ایسا سمجھنا احادیث صحیحہ کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
➍ اگرچہ گدھوں کا حرام ہونا قرآن مجید میں مذکور نہیں ہے لیکن احادیث صحیحہ سے صاف ثابت ہے کہ گدھے حرام ہیں۔ یہ احادیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ درجہ ذیل صحابہ سے بھی مرفوعاً ثابت ہیں:
جابر بن عبدالله [صحيح بخاري: 4219 و صحيح مسلم: 1941/36]
براء بن عازب [صحيح بخاري: 4224، 5525، 5526 و صحيح مسلم: 1938/28] [5012] ]
عبد الله بن ابي اوفيٰ [صحيح بخاري: 3155، 5525، 5526 وصحيح مسلم: 1937/26 [5010] ]
انس بن مالك [صحيح بخاري: 2991 و صحيح مسلم: 1940]
ابوثعلبه الخشني [صحيح بخاري: 5527 و صحيح مسلم: 1936/23 [5007] ]
عبدالله بن عمر [صحيح بخاري: 5521 و صحيح مسلم: 24/561 بعد ح1936 [5008] ]
سلمه بن الاكوع [صحيح بخاري: 2477 وصحيح مسلم: 33/1802 بعد ح 1939 [5018] ]
عبد الله بن عباس [صحيح بخاري: 4227 و صحيح مسلم: 1939]
الحكم بن عمرو الغفاري [مسند الحميدي بتحقيقي: 861 و سنده صحيح، نسخة الاعظمي: 859]
مقدام بن معدي كرب الكندي [سنن ابي داؤد: 4604 وسنده صحيح، و مسند أحمد 131/4]
عبد الله بن عمرو بن العاص [سنن ابي داود: 3811 وسنده حسن] رضي الله عنهم اجمعين
یہ حدیث متواتر ہے۔ ديكهئے: [نظم المتناثر للكتاني ص162 ح163]
➎ خاص دلیل عام دلیل پر مقدم ہوتی ہے۔
➏ احادیث صحیحہ قرآن مجید کا بیان، تشریح اور تفسیر ہیں۔
➐ اگر احادیث صحیحہ و فہم سلف صالحین کو رد کر کے صرف لغت، اشعار اور منکرین حدیث کی تحریفات کو سامنے رکھ کر قرآن مجید کی تفسیر کی جائے تو سوائے گمراہی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
➑ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بھی اسی طرح واجب ہے جیسے الله تعالیٰ کا حکم واجب العمل ہے۔
➒ بہت سے لوگ دلائل صحیحہ معلوم ہونے کے باوجود دنیا میں اپنی مرضی کرتے رہتے ہیں۔
➓ سیدنا علی رضی اللہ عنہ متعۃ النکاح کی حرمت کے راوی اور قائل ہیں لہٰذا ان سے محبت کا دعوی کرنے والوں کو ان کی اتباع کرنی چاہئے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 64   
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1961  
´نکاح متعہ منع ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1961]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نکاح متعہ ایسے عارضی نکاح کو کہتے ہیں جس میں مرد اور عورت ایک خاص مدت تک میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا قبول کرتے ہیں یہ مدت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
اس قسم کا نکاح پہلے جائز تھا، پھر منع کر دیا گیا۔
اب یہ حرام ہے۔

(2)
عصمت فروشی کا کاروبار حرام ہے اگرچہ اسے بظاہر نکاح متعہ کے نام سے جائز قرار دینے کی کوشش کی جائے۔

(3)
شرعی نکاح مرد اور عورت کے درمیان زندگی بھر اکٹھے رہنے کا معاہدہ ہوتا ہے۔
نکاح حلالہ میں چونکہ ہمیشہ اکٹھے رہنا مقصود نہیں ہوتا اس لیے یہ بھی حرام ہے۔

(4)
پالتو گدھا حرام ہے۔
اسی سے ملتا جلتا ایک جانور جنگل میں ہوتا ہے جسے اہل عرب حمار وحشی (جنگلی گدھا)
کہتے ہیں وہ حلال ہے۔
ہمارے یہاں سے نیل گائے کہا جاتا ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 1961   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1121  
´نکاحِ متعہ کی حرمت کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1121]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
عورتوں سے مخصوص مدّت کے لیے نکاح کرنے کونکاح متعہ کہتے ہیں،
پھرعلی رضی اللہ عنہ نے خیبرکے موقع سے گھریلو گدھوں کی حرمت کے ساتھ متعہ کی حرمت کاذکرکیا ہے یہاں مقصد متعہ کی حرمت کی تاریخ نہیں بلکہ ان دوحرام چیزوں کا تذکرہ ہے متعہ کی اجازت واقعہ اوطاس میں دی گئی تھی۔
حرام ہوگیا،
اوراب اس کی حرمت قیامت تک کے لیے ہے،
ائمہ اسلام اورعلماء سلف کا یہی مذہب ہے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 1121   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3435  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا موقف یہ تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے سے منع فرما دیا تھا،
اور فتح مکہ کے وقت عارضی اجازت ایک استثنائی رخصت تھی،
اور کوئی استثنائی صورت دلیل وحجت نہیں بن سکتی،
اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استدلالی نظریہ درست نہیں ہے انہیں اس سے باز آنا چاہیے،
اس لیے عرض کیا تم راہ راست سے سرگرداں اور بھٹکے ہوئے ہو۔

جاہلیت کے دور میں نکاح متعہ کی دو صورتیں تھیں ایک میں کم اجرت یا مزدوری پر چند دنوں کے لیے محض مرد اور عورت کی رضا مندی سے بغیر والدین کی اجازت اور گواہو ں کے متعہ کیا جاتا تھا،
جس کو نکاح متعہ کا نام دیا جاتا ہے،
اس میں متعہ کرنے والا گھر بسانے کی اور حمل کی صورت میں نتیجہ حمل کو قبول کرنے کی نیت نہیں کرتا تھا،
اور نہ عورت کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوتا تھا،
اس میں طلاق،
ظہار،
ایلا،
لعان،
وراثت وغیرہ نکاح کے احکام جاری نہیں ہوتے تھے،
اور دوسری صورت نکاح موقت کی تھی جس میں والدین کی رضا مندی سے طویل عرصہ کے لیے مہر مقرر کر کے گھر بسانے کے لیے نکاح کیا جاتا تھا اس میں گواہ بھی ہوتے تھے اور طلاق بھی،
آئمہ اربعہ اور جمہور امت کے نزدیک دونوں صورتیں ناجائز اور حرام ہیں،
لیکن امام زفر کے نزدیک نکاح موقت جائز ہے،
وقت مقررہ پر طلاق دینے کی شرط ناجائز ہے،
اور یہ نکاح ابدی ہو گا،
وقت مقررہ کا لعدم ہو گا۔
اصل بات یہ ہے کہ شریعت نے نکاح کچھ اغراض ومقاصد کے لیے مقرر کیا ہے،
محض جنسی ہوس پوری کرنا اور پانی اور پانی کا اخراج مطلوب نہیں ہے،
کیونکہ فطرتی اور طبعی طور پر مرد اور عورت حصول اولاد کے لیے ایک دوسرے کے لیے کشش کا باعث ہیں اور اس کے لیے گھر بسانے پر آمادہ رہتے ہیں،
جس میں سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی میں ایک دوسرے کے لیے محبت و مودت اور رحمت و شفقت رکھی ہے اور اور عورت کو مرد کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے اگر انسان کی فطرت مسخ نہ ہو جائے تو مرد اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کی بیوی ہرجائی ہو،
اورنہ کوئی عورت اس بات کو برداشت کرتی ہے کہ اس کے میاں کے دل میں کسی اور کے لیے جگہ ہو اور ہر جگہ منہ مارتا پھرے،
اس لیے وہ سوکن کو بھی ٹھنڈے پیٹ قبول نہیں کرتی،
شریعت اسلامیہ نے کچھ عرصہ تک کے لیے وقتی ظروف واحوال اور لوگوں کے رسوم و رواج کو ملحوظ رکھتے ہوئے جاہلیت کے طریقہ پر قدغن عائد نہیں کی،
اگرچہ اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کی،
اس لیے صرف جنگی سفروں میں اس کو گوارا کیا لیکن جب حالات بہتر ہو گئے مسلمانوں کی حکومت مستحکم ہو گئی اور وہ سیاسی طور پر ایک قوت غالبہ بن گئے تو اس پر کلہاڑا چلا دیا اور جنگ خیبر کے وقت اس کو منع قرار دے دیا پھر فتح مکہ کے موقعہ پر انتہائی شدید ضرورت کی بنا پر صرف تین دن کے لیے اس میں استثنائی صورت پیدا کی گئی اور اس کے بعد اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منع قرار دے دیا گیا اب چونکہ کسی نئے رسول یا نبی کی آمد کا امکان نہیں رہا اس لیے استثنائی صورت کی گنجائش نہیں رہی تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقعہ پر تو قیامت تک کے لیے حرمت کی بات نہیں کی تھی لیکن فتح مکہ کے موقعہ پر قیامت تک کے لیے حرمت کا اعلان فرمایا،
اور حجۃ الوداع کے موقعہ پر جہاں ہر علاقہ اور ہر جگہ کے مسلمان کثیر تعداد میں موجود تھے اس کا دوبارہ اعلان فرمایا،
نکاح متعہ میں مقصود صرف چند دن کے لیے پانی کا اخراج ہے جبکہ دین و شریعت کی روسے عورت حرث ہے یعنی کھیتی ہے جس سے پیداوار مقصود ہوتی ہے۔
محض بیج ڈال کر اس کو ضائع کرنا مطلوب نہیں ہوتا اسی لیے دبر میں تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ہے اگر پانی کا بہاؤ ہی مقصد ہوتا یا ضرورت و مجبوری ہوتی تو کم ازکم حیض کے دنوں میں اس کی گنجائش رکھ لی جاتی اس لیے متعہ کی حرمت میں عقل و نقل اور فطرت انسانی کی روسے کوئی شک و شبہ نہیں،
ہاں نکاح موقت میں اگر حقیقی نکاح کی تمام شروط موجود ہوں،
یعنی طلاق،
ایلاء لعان،
ظہار،
عدت،
وراثت،
نان و نفقہ اور اولاد کی ذمہ داری کی قبولیت صرف یہ ناجائز شرط ہو کہ میں اتنے عرصہ کے بعد تمھیں طلاق دے دوں گا۔
تو پھر اس شرط کو بالکل ٹھہرا کراس کو نکاح صحیح قرار دینے کی گنجائش حنفی مسلک میں موجود ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے اگر شرط اتنی طویل مدت کی رکھی گئی جتنی مدت عام طور پر انسان زندہ نہیں رہ سکتا تو پھر یہ نکاح صحیح ہے (فتح الملہم ج3ص739)
مگر متعہ کی حرمت کی صریح احادیث کی موجودگی میں اس نکاح کو صحیح قرار دینا کسی طرح درست نہیں ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 3435   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.