صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
48. باب إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا ، أَمَرَ جِبْرَئِيلَ فَأَحَبَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْآرْضِ
48. باب: جب اللہ کریم کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بھی اس سے محبت رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان کے فرشتے بھی اس سے محبت کر تے ہیں۔
حدیث نمبر: 6707
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثني عمرو الناقد ، حدثنا يزيد بن هارون ، اخبرنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة الماجشون ، عن سهيل بن ابي صالح ، قال: كنا بعرفة، فمر عمر بن عبد العزيز وهو على الموسم، فقام الناس ينظرون إليه، فقلت لابي: يا ابت، إني ارى الله يحب عمر بن عبد العزيز، قال: وما ذاك؟ قلت: لما له من الحب في قلوب الناس، فقال: بابيك انت سمعت ابا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم ذكر بمثل حديث جرير، عن سهيل.حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: كُنَّا بِعَرَفَةَ، فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ، إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ، فَقَالَ: بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُهَيْلٍ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، کہا: ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے، میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا: اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے، انہوں (ابوصالح) نے کہا: تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں ہم عرفہ میں تھے کہ عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ گزرے، جبکہ وہ امیر حج تھے، چنانچہ لوگ کھڑے ہو کر ان کو دیکھنے لگے تو میں نے اپنے باپ سے کہا، اے اباجان!میں سمجھتا ہوں، اللہ عمر بن عبد العزیز سے محبت کرتا ہے اس نے کہا یہ کیسے؟ میں نے کہا، کیونکہ لوگوں کے دلوں میں اس سے محبت ہے، انھوں نے کہا تونے کیا ہی خوب کہا، میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2637

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6707  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بابيك انت،
عربی محاورہ کی رو سے یہ مدح تعریف کا کلمہ ہے معنی یہ ہوتا ہے نعم ما قلت،
تو نے کیا ہی اچھی بات کہی۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 6707   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.