الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
فتنے اور علامات قیامت
16. باب الْفِتْنَةِ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ:
16. باب: مشرق سے فتنوں کا بیان جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔
حدیث نمبر: 7297
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا عبد الله بن عمر بن ابان ، وواصل بن عبد الاعلى ، واللفظ لابن ابان، واحمد بن عمر الوكيعي ، قالوا: حدثنا ابن فضيل ، عن ابيه ، قال: سمعت سالم بن عبد الله بن عمر ، يقول: يا اهل العراق ما اسالكم عن الصغيرة، واركبكم للكبيرة، سمعت ابي عبد الله بن عمر ، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " إن الفتنة تجيء من هاهنا، واوما بيده نحو المشرق من حيث يطلع قرنا الشيطان، وانتم يضرب بعضكم رقاب بعض، وإنما قتل موسى الذي قتل من آل فرعون خطا، فقال الله عز وجل له وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا سورة طه آية 40 "، قال احمد بن عمر في روايته: عن سالم، لم يقل سمعت.حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ، وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ، سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ، وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا سورة طه آية 40 "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ سَالِمٍ، لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ.
عبداللہ بن عمر بن ابان، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ ابن ابان کے ہیں۔انھوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ بن عمرسے سنا، کہہ رہے تھے: " اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو (حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے (نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا)، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو نے ایک خون کیا، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا۔
فضیل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے سالم بن عبد اللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئےسنا:"اے اہل عراق (تم کسی قدرزیرہ چھانتے ہو اور اونٹ نگلتے ہو) تم چھوٹے گناہوں کو کریدتے ہو اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہو میں نے اپنے باپ عبد اللہ بن عمر کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"فتنہ ادھر سےآئےگا۔"آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔" جہاں سے شیطان کے دو سینگ نمو دار ہوتے ہیں۔" اور تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے ہو اور موسیٰ ؑ نے تو بس ایک فرعونی کو چوک کر قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا:"اور تونے ایک نفس کو قتل کیا تو ہم نے تجھے اس غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا۔"(طہ آیت نمبر40۔)احمد بن عمر کی روایت میں سالم نے سمعت نہیں کہا۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
   صحيح البخاري7092عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3104عبد الله بن عمرهنا الفتنة ثلاثا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري5296عبد الله بن عمرالفتنة من ها هنا وأشار إلى المشرق
   صحيح البخاري7093عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3511عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا يشير إلى المشرق من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3279عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا إن الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7297عبد الله بن عمرالفتنة تجيء من هاهنا وأومأ بيده نحو المشرق من حيث يطلع قرنا الشيطان وأنتم يضرب بعضكم رقاب بعض وإنما قتل موسى الذي قتل من آل فرعون خطأ فقال الله له وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا
   صحيح مسلم7297عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ها إن الفتنة هاهنا ثلاثا حيث يطلع قرنا الشيطان
   صحيح مسلم7295عبد الله بن عمررأس الكفر من هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان يعني المشرق
   صحيح مسلم7294عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ها إن الفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7294عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7293عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ألا إن الفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   جامع الترمذي2268عبد الله بن عمرها هنا أرض الفتن وأشار إلى المشرق يعني حيث يطلع جذل الشيطان أو قال قرن الشيطان
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم547عبد الله بن عمرها، إن الفتنة هاهنا، إن الفتنة ها هنا، من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري7092عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3104عبد الله بن عمرهنا الفتنة ثلاثا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري5296عبد الله بن عمرالفتنة من ها هنا وأشار إلى المشرق
   صحيح البخاري7093عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3511عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا يشير إلى المشرق من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح البخاري3279عبد الله بن عمرالفتنة ها هنا إن الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7297عبد الله بن عمرالفتنة تجيء من هاهنا وأومأ بيده نحو المشرق من حيث يطلع قرنا الشيطان وأنتم يضرب بعضكم رقاب بعض وإنما قتل موسى الذي قتل من آل فرعون خطأ فقال الله له وقتلت نفسا فنجيناك من الغم وفتناك فتونا
   صحيح مسلم7297عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ها إن الفتنة هاهنا ثلاثا حيث يطلع قرنا الشيطان
   صحيح مسلم7295عبد الله بن عمررأس الكفر من هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان يعني المشرق
   صحيح مسلم7294عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ها إن الفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7294عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   صحيح مسلم7293عبد الله بن عمرالفتنة هاهنا ألا إن الفتنة هاهنا من حيث يطلع قرن الشيطان
   جامع الترمذي2268عبد الله بن عمرها هنا أرض الفتن وأشار إلى المشرق يعني حيث يطلع جذل الشيطان أو قال قرن الشيطان
   موطا امام مالك رواية ابن القاسم547عبد الله بن عمرها، إن الفتنة هاهنا، إن الفتنة ها هنا، من حيث يطلع قرن الشيطان

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 547  
´فتنوں کی سرزمین عراق ہے`
«. . . 293- وبه: أنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير إلى المشرق، يقول: ها، إن الفتنة هاهنا، إن الفتنة ها هنا، من حيث يطلع قرن الشيطان. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! یقیناً فتنہ یہاں ہے، یقیناً فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ (بڑا فتنہ) نکلے گا . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 547]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 3279، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مشرق سے مراد عراق کا علاقہ ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
➋ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے حدیث سابق: بخاری(1525) ومسلم (1182)
➌ شیطان کے سینگ سے مراد بڑا فتنہ ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے غیب کی جو خبریں بتائی ہیں وہ من وعن پوری ہوکر رہیں گی۔
➎ قیامت کی بہت سی نشانیوں کا ظہور ابھی تک باقی ہے۔
➏ یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ہے۔
➐ اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ہے۔
➑ عراق میں بہت سے فتنے ہوئے تھے مثلاً شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے [التمهيد 17/12]
یعنی فتنہ پردازوں اور ظالموں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔ عراق کربلاء (کرب وبلاء) میں ظالم اور مظلوم کے درمیان جو معرکہ ہوا اس کا خمیازہ ابھی تک اُمت بھگت رہی ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 293   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 547  
´فتنوں کی سرزمین عراق ہے`
«. . . 293- وبه: أنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشير إلى المشرق، يقول: ها، إن الفتنة هاهنا، إن الفتنة ها هنا، من حيث يطلع قرن الشيطان. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! یقیناً فتنہ یہاں ہے، یقیناً فتنہ یہاں ہے جہاں سے شیطان کا سینگ (بڑا فتنہ) نکلے گا . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 547]

تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 3279، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مشرق سے مراد عراق کا علاقہ ہے جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
➋ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے حدیث سابق: بخاری(1525) ومسلم (1182)
➌ شیطان کے سینگ سے مراد بڑا فتنہ ہے۔
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے غیب کی جو خبریں بتائی ہیں وہ من وعن پوری ہوکر رہیں گی۔
➎ قیامت کی بہت سی نشانیوں کا ظہور ابھی تک باقی ہے۔
➏ یہ حدیث نبوت کی نشانیوں میں سے ہے۔
➐ اللہ کے سچے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبیوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ہے۔
➑ عراق میں بہت سے فتنے ہوئے تھے مثلاً شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے [التمهيد 17/12]
یعنی فتنہ پردازوں اور ظالموں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا جو کہ بہت بڑا ظلم ہے۔ عراق کربلاء (کرب وبلاء) میں ظالم اور مظلوم کے درمیان جو معرکہ ہوا اس کا خمیازہ ابھی تک اُمت بھگت رہی ہے۔
   موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث\صفحہ نمبر: 293   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2268  
´ایسے زمانے کی پیشین گوئی جس میں تھوڑی نیکی بھی باعث نجات ہو گی۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: فتنے کی سر زمین وہاں ہے اور آپ نے مشرق (پورب) کی طرف اشارہ کیا یعنی جہاں سے شیطان کی شاخ یا سینگ نکلتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2268]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے فتنہ کا ظہور مدینہ کی مشرقی جہت (عراق) سے ہوگا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2268   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2268  
´ایسے زمانے کی پیشین گوئی جس میں تھوڑی نیکی بھی باعث نجات ہو گی۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: فتنے کی سر زمین وہاں ہے اور آپ نے مشرق (پورب) کی طرف اشارہ کیا یعنی جہاں سے شیطان کی شاخ یا سینگ نکلتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2268]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے فتنہ کا ظہور مدینہ کی مشرقی جہت (عراق) سے ہوگا۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2268   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7297  
1
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
موسیٰ علیہ السلام نے صرف ایک قبطی کو غلطی سے غیر شعوری طور پر،
بلا عمد قتل کیا تھا،
لیکن اس پر غم و حزن میں مبتلا ہوگئے اور تمام مسلمانوں کو شعوری اور ارادی طور پر قتل کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے،
چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں بہت چھان بین کرتے ہوئے،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم بہت متقی اور پرہیز گار ہو،
لیکن مسلمانوں مین تفرقہ پیدا کرنا،
فتنے بھڑکا،
ائمہ کے خلاف پرو پیگنڈا کرنا اوربغاوت کا تمہارا معمول ہے،
اسی طرح حضرت سالم رحمہُ اللہُ نے مشرق کا مصداق اہل عراق کو قرار دیا ہے۔
''اہل عراق نے مچھر کے خون کے بارے میں سوال کیا تھا،
جبکہ وہ حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرچکے تھے،
اس سے بھی ثابت ہوا اس حدیث کا مصداق اہل عراق ہیں نہ کہ مقرر کردہ نجدی جن کو احناف اس کا مصداق بنانے کے لیے زور لگاتے ہیں۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 7297   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.