الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: شکار کے احکام و مسائل
Chapters on Hunting
16. بَابُ : الضَّبِّ
16. باب: ضب (صحرائے نجد میں پائے جانے والے گوہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3238
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا محمد بن فضيل ، عن حصين ، عن زيد بن وهب ، عن ثابت بن يزيد الانصاري ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فاصاب الناس ضبابا، فاشتووها فاكلوا منها، فاصبت منها ضبا فشويته، ثم اتيت به النبي صلى الله عليه وسلم، فاخذ جريدة فجعل يعد بها اصابعه، فقال:" إن امة من بني إسرائيل مسخت دواب في الارض، وإني لا ادري لعلها هي"، فقلت: إن الناس قد اشتووها فاكلوها، فلم ياكل ولم ينه.
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَ النَّاسُ ضِبَابًا، فَاشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا، فَأَصَبْتُ مِنْهَا ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَجَعَلَ يَعُدُّ بِهَا أَصَابِعَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهَا هِيَ"، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اشْتَوَوْهَا فَأَكَلُوهَا، فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ.
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب (گوہ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی (اس کے کھانے سے) منع کیا۔

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الأطعمة 28 (3795)، سنن النسائی/الصید والذبائح 26 (4325)، (تحفة الأشراف: 2069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/220)، سنن الدارمی/الصید 8 (2059) (صحیح)» ‏‏‏‏

قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
   سنن أبي داود3795ثابت بن وديعةأمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه
   سنن ابن ماجه3238ثابت بن وديعةأمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض لم يأكل ولم ينه
   سنن النسائى الصغرى4325ثابت بن وديعةأمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض ما أمر بأكلها ولا نهى
   سنن النسائى الصغرى4326ثابت بن وديعةأمة مسخت لا يدرى ما فعلت وإني لا أدري لعل هذا منها
   المعجم الصغير للطبراني622ثابت بن وديعة عن الضب ، فقال : أمة مسخت والله أعلم

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3238  
´ضب (صحرائے نجد میں پائے جانے والے گوہ) کا بیان۔`
ثابت بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ضب (گوہ) پکڑے اور انہیں بھونا، اور اس میں سے کھایا، میں نے بھی ایک گوہ پکڑی اور اسے بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی، اور اس کے ذریعہ اس کی انگلیاں شمار کرنے لگے اور فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ ہو کر زمین میں کا ایک جانور بن گیا، اور میں نہیں جانتا شاید وہ یہی ہو، میں نے عرض کیا: لوگ اسے بھون کر کھا بھی گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو اسے کھایا او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3238]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  «ضب» کا ترجمہ سانڈا بھی کیا گیا ہے اور گوہ بھی۔
ضب کےبارے میں علماء نے جو کچھ بیان کیا ہے اس میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی دم بہت گرہ دار ہوتی ہے۔ (حاشہ سنن ابن ماجہ۔
محمد فواد عبدالباقی)

اور یہ جانور پانی نہیں پیتا اس لیے عرب میں اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ میں فلاں کام کبھی نہیں کروں گا تو وہ یہ محاورہ بولتا ہے:
لاأفعل كذا حتى يرد الضب میں یہ کام نہیں کروں گا حتی کہ ضب پانی پینے آئے۔
کیونکہ ضب پانی نہیں پیتا بلکہ اسے ٹھنڈی ہواکی نمی کافی ہوتی ہے۔ (فتح الباری: 9/820)
 اس وضاحت کی روشنی میں ضب کا ترجمہ سانڈا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم۔

(2)
  نبی اکرم ﷺ کاارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ نے مسخ شدہ لوگوں کی نسل نہیں چلائی۔ (صحیح مسلم، القدر، باب ان الآجال والأرزاق وغیرھا لاتزید ولاتنقص عما سبق به القدر، حديث: 2663)
ممكن ہے زیر مطالعہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا سانڈے کےبارے میں اظہار خیال وحی کے ذریعے سے یہ قانون معلوم ہونے سے پہلے کا ہو۔

(3)
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ نبی اکرم ﷺ نے گو اپنی طبعی کراہت کی وجہ سے اسے کھانا پسند نہیں فرمایا لیکن آپ نے صحابہ کواس کے کھانے سے منع بھی نہیں فرمایا چنانچہ جسے پسند ہو وہ کھالے جیسے کہ آپ ﷺ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا ہے اور جسے پسند نہ ہو وہ نہ کھائے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3238   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.