الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: تفسیر قرآن کریم
Chapters on Tafsir
88. باب وَمِنْ سُورَةِ التَّكَاثُرِ
88. باب: سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3356
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزبير بن العوام، عن ابيه، قال: " لما نزلت هذه الآية: ثم لتسالن يومئذ عن النعيم سورة التكاثر آية 8، قال الزبير: يا رسول الله، فاي النعيم نسال عنه وإنما هما الاسودان التمر والماء؟ قال: " اما إنه سيكون ". قال: هذا حديث حسن.حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ؟ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ ". قال: هذا حديث حَسَنٌ.
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا (التکاثر: ۸)، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الزہد 12 (4158) (تحفة الأشراف: 3625) (حسن)»

وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا، اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔
۲؎: مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں، اور پانی کو غالباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب «الاسودان» (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔

قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
   جامع الترمذي3356زبير بن العوامأي النعيم نسأل عنه وإنما هما الأسودان التمر والماء قال أما إنه سيكون
   سنن ابن ماجه4158زبير بن العوامأي نعيم نسأل عنه وإنما هو الأسودان التمر والماء

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4158  
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان۔`
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت: «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (سورة اتكاثر: 8) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا: کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں: پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4158]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
جو نعمتیں ہماری نظر میں معمولی ہیں غور کیا جائے تو وہ بھی بڑی نعمتیں ہیں لہٰذا ان کا شکر ادا کرنا ضروری ہے۔

(2)
معمولی سے معمولی غذا بھی بھوکا رہنے کے مقابلے میں بہت بڑی نعمت ہے۔

(3)
آگاہ رہو! یہ ضرور ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں:
ایک یہ کہ اگر آج تمھارے پاس نعمتوں کی فراوانی نہیں ہے تو عن قریب یہ ہوجائے گی یعنی فتوحات ہوں گی اور تمھیں وافر مقدار میں غنیمتیں حاصل ہوں گی لہذا تمھیں بہت سی نعمتیں میسر ہونگی۔
دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ ہر ایک انسان کو دنیا میں تھوڑا بہت مال ومتاع ملا ہی ہے یعنی کسی کو کم کسی کو زیادہ لہٰذا قیامت کے دن ہر شخص سے اس کو دی جانے والی ہر نعمت کے بارے میں سوال ہوگا ہماری رائے میں دوسرا مفہوم راجح ہے۔
واللہ اعلم۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4158   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3356  
´سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا (التکاثر: ۸)، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا؟ ہمیں تو صرف دو ہی (کالی) نعمتیں حاصل ہیں، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا: عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3356]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا (التکاثر: 8)

2؎:
یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا،
اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔

3؎:
مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں،
اورپانی کو اغلباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب (الأَسوَدَانِ) (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3356   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.