الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
کتاب: تفسیر قرآن کریم
Chapters on Tafsir
89. باب وَمِنْ سُورَةِ الْكَوْثَرِ
89. باب: سورۃ الکوثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3361
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا هناد، حدثنا محمد بن فضيل، عن عطاء بن السائب، عن محارب بن دثار، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب، ومجراه على الدر والياقوت، تربته اطيب من المسك، وماؤه احلى من العسل وابيض من الثلج ". قال: هذا حديث حسن صحيح.حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَجْرَاهُ عَلَى الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ، تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَمَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ ". قال: هذا حديث حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الكوثر» جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کے پانی کا گزر موتیوں اور یاقوت پر ہوتا ہے، اس کی مٹی مشک سے بھی زیادہ خوشبودار ہے اور اس کا پانی شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہے اور برف سے بھی زیادہ سفید ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الزہد 39 (4334) (تحفة الأشراف: 1154) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4334)
   جامع الترمذي3361عبد الله بن عمرالكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب مجراه على الدر والياقوت تربته أطيب من المسك ماؤه أحلى من العسل أبيض من الثلج
   سنن ابن ماجه4334عبد الله بن عمرالكوثر نهر في الجنة حافتاه من ذهب مجراه على الياقوت والدر تربته أطيب من المسك وماؤه أحلى من العسل وأشد بياضا من الثلج

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4334  
´جنت کے احوال و صفات کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و موتی پر ہو گی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4334]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
کوثر کا مطلب خیر کثیر ہے اس میں وہ تمام خصائص و فضائل شامل ہے۔
جو نبیﷺ کو حاصل ہوئے اور حاصل ہوں گے۔
اس میں حوض کوثر بھی شامل ہے جو میدان حشر میں ہوگا۔
اور جنت کی وہ نہر بھی جس سے حوض کوثر میں پانی آئیگا۔

(2)
جنت کی نہر دنیا کی نہر سے اسی طرح عظیم اور ممتاز ہے۔
جس طرح جنت کی دوسری نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے مختلف ہیں۔

(3)
نہر کوثر کی تہہ میں کنکروں اور پتھروں کی بجائے یاقوت جیسے قیمتی پتھر اور موتِی ہوں گے جس سے اس کا منظر اور دلکش ہو جائے گا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 4334   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.