صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
The Book of Commentary
4. بَابُ قَوْلِهِ: {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} :
4. باب: آیت کی تفسیر ”سو آپ خود اور آپ کا رب جہاد کرنے چلے جاؤ اور آپ دونوں ہی لڑو بھڑو، ہم تو اس جگہ بیٹھے رہیں گے“۔
(4) Chapter. The Statement of Allah: “...So go you and your Lord and fight you two, we are sitting right here.” (V.5:24)
حدیث نمبر: 4609
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا ابو نعيم، حدثنا إسرائيل، عن مخارق، عن طارق بن شهاب، سمعت ابن مسعود رضي الله عنه، قال: شهدت من المقداد. ح وحدثني حمدان بن عمر، حدثنا ابو النضر، حدثنا الاشجعي، عن سفيان، عن مخارق، عن طارق، عن عبد الله، قال: قال المقداد:" يوم بدر يا رسول الله، إنا لا نقول لك كما قالت بنو إسرائيل لموسى، فاذهب انت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون سورة المائدة آية 24، ولكن امض ونحن معك، فكانه سري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. ورواه وكيع، عن سفيان، عن مخارق، عن طارق، ان المقداد قال ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم.حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ. ح وحَدَّثَنِي حَمْدَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ:" يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَهُنَا قَاعِدُونَ سورة المائدة آية 24، وَلَكِنْ امْضِ وَنَحْنُ مَعَكَ، فَكَأَنَّهُ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا (دوسری سند) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر (ہاشم بن قاسم) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون‏» کہ آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا (جو اوپر بیان ہوا)۔

Narrated `Abdullah (bin Masud): On the day of Badr, Al-Miqdad said, "O Allah's Messenger ! We do not say to you as the children of Israel said to Moses, 'Go you and your Lord and fight you two; we are sitting here, (5.24) but (we say). "Proceed, and we are with you." That seemed to delight Allah's Messenger greatly.
USC-MSA web (English) Reference: Volume 6, Book 60, Number 133

   صحيح البخاري4609طارق بن شهابلا نقول لك كما قالت بنو إسرائيل لموسى فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون
   صحيح البخاري3952طارق بن شهابلا نقول كما قال قوم موسى اذهب أنت وربك فقاتلا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4609  
4609. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت مقداد بن اسود ؓ نے بدر کے دن کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا: "تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور (ان سے) لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔" لیکن آپ چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے تمام خدشات دور ہو گئے اور آپ بہت خوش ہوئے۔ امام وکیع نے سفیان سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے بیان کیا کہ حضرت مقداد ؓ نے یہ بات نبی ﷺ سے کہی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4609]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں اس کی مزید تفصیل ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں:
میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ سے ایک ایسی بات سنی ہے کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔
وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ اس وقت آپ مشرکین کے خلاف بد دعا کر رہے تھے انھوں نے عرض کی:
اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو حضرت موسی ؑ کی قوم نے کہی تھی:
"جاؤ تم اور تمھارا رب ان سے جنگ کرو۔
" بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہو کر لڑیں گے۔
میں نے دیکھا کہ یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہر انور چمکنے لگا اور آپ بہت خوش ہوئے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3952)

دراصل ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش کے ایک قافلے کی خبر سن کر مدینہ طیبہ سے نکلے تھے لیکن قافلہ تو بحفاظت نکل گیا البتہ کفار مکہ سے لڑائی ٹھن گئی جس میں کفار ایک جارح کی حیثیت سے تیار ہوکر آئے تھے۔
اس نازک مرحلے پر رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے جنگ کے متعلق مشورہ کیا تو سب نے آپ کو تسلی دی اور جنگ پر آمادہ گی کا اظہار کیا انصار نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر آپ برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک ہمیں جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنےاور جان و مال سے لڑنے کے لیے حاضرہیں۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے بھی وہی بات کہی جو حضرت مقداد ؓ نے کہی تھی ممکن ہے کہ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت مقدادؓ دونوں نے ویسا کہا ہو۔
بہر حال اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جاں نثاری اور وفاداری کا پتہ چلتا ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث\صفحہ نمبر: 4609   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.