صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: کھانوں کے بیان میں
The Book of Foods (Meals)
54. بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ:
54. باب: کھانا کھانے کے بعد کیا دعا پڑھنی چاہیئے؟
(54) Chapter. What one should say after finishing one’s meal.
حدیث نمبر: 5458
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب English
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا رفع مائدته، قال:" الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا".حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب کھانا اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ غير مكفي،‏‏‏‏ ولا مودع ولا مستغنى عنه،‏‏‏‏ ربنا» تمام تعریفیں اللہ کے لیے، بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے (اور یہ اس لیے کہا تاکہ) اس سے ہم کو بےپرواہی کا خیال نہ ہو، اے ہمارے رب!۔

Narrated Abu Umama: Whenever the dining sheet of the Prophet was taken away (i.e., whenever he finished his meal), he used to say: "Al-hamdu li l-lah kathiran taiyiban mubarakan fihi ghaira makfiy wala muWada` wala mustaghna'anhu Rabbuna."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 65, Number 368

   صحيح البخاري5459صدي بن عجلانالحمد لله الذي كفانا وأروانا غير مكفي ولا مكفور الحمد لله ربنا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى ربنا
   صحيح البخاري5458صدي بن عجلانالحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا
   جامع الترمذي3456صدي بن عجلانالحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا
   سنن أبي داود3849صدي بن عجلانالحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا
   سنن ابن ماجه3284صدي بن عجلانالحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3284  
´جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد و ثناء ہے، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں، اسے نہ چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے، اے ہمارے رب! (ہماری دعا سن لے)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3284]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس دعا کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے:
یہ تعریف کافی نہیں سمجھی گئی (کیونکہ انسان کماحقہ حمد کر ہی نہیں سکتا)
نہ چھوڑی گئی (بلکہ یہ حمد وشکر مسلسل ہے کیونکہ رب کی نعمتیں مسلسل حاصل ہو رہی ہیں)
نہ اس تعریف سے بے نیازی ہو سکتی ہے (کیونکہ حاصل نعمتوں کو قائم رکھنے کےلیے اور مزید نعمتوں کے حصول کے لیے بندے کو حمد وشکر کی ضرورت رہتی ہے۔)

(2)
کھانے کے آخر میں یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث\صفحہ نمبر: 3284   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3456  
´جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟`
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ کہتے: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ روزی ہے، بابرکت روزی ہے، یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب ہم اس سے کبھی بے نیاز نہ ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3456]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اللہ ہی کے لیے ہیں ساری تعریفیں،
بہت زیادہ تعریفیں،
پاکیزہ روزی ہے،
بابرکت روزی ہے،
یہ اللہ کی جانب سے ہماری آخری غذا نہ ہو اور اے ہمارے رب! ہم اس سے کبھی بے نیاز نہ ہوں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 3456   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3849  
´کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟`
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3849]
فوائد ومسائل:
فائدہ: (غیر مکفی۔
۔
۔
الخ)
 انسان ایک دفعہ کھانے کے بعد پھر سے اس کا طلب گار ہوتا ہے۔
اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔
لہذا کھانے جیسی نعمت کا شکر بھی اسی طرح کا ہونا چاہیے۔
جو اس کے مہتم بالشان ہو۔
اور یہ نبی اکرم ﷺکی بتائی ہوئی ادعیہ ہی سے ممکن ہے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3849   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.