🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب فى الحوض:
باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6593
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي، فَيُقَالُ:" هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ"، فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا. أَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُونَ، تَرْجِعُونَ عَلَى الْعَقِبِ.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، ان سے نافع بن عمر نے، کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں۔ مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کئے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھر گئے) ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دئیے جائیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ مومنون میں جو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «أعقابكم تنكصون‏» اس کا معنی بھی یہی ہے کہ تم دین سے اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پھر گئے تھے یعنی اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الرقاق/حدیث: 6593]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسماء بنت أبي بكر القرشية، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← أسماء بنت أبي بكر القرشية
ثقة
👤←👥نافع بن عمر الجمحي، أبو معشر
Newنافع بن عمر الجمحي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← نافع بن عمر الجمحي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6593
إني على الحوض حتى أنظر من يرد علي منكم سيؤخذ ناس دوني فأقول يا رب مني ومن أمتي هل شعرت ما عملوا بعدك والله ما برحوا يرجعون على أعقابهم
صحيح مسلم
5972
إني على الحوض حتى أنظر من يرد علي منكم سيؤخذ أناس دوني فأقول يا رب مني ومن أمتي أما شعرت ما عملوا بعدك والله ما برحوا بعدك يرجعون على أعقابهم
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6593 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6593
حدیث حاشیہ:
(1)
جو انسان دین اسلام سے مرتد ہو جائے یا دین اسلام میں بدعات کو رواج دے، اسے قیامت کے دن حوض کوثر سے دور رکھا جائے گا۔
اسی طرح وہ شخص جو حق کو دبائے اور لوگوں پر ظلم و ستم کرے، اسلام اور اہل اسلام کو ذلیل کرے اسے بھی اس سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
میں تجھے ان امراء سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں جو میرے بعد ہوں گے۔
جو شخص ان کے پاس جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم و ستم پر ان کا تعاون کرے گا وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں اور وہ حوض کوثر پر میرے نزدیک نہیں آ سکے گا۔
اور جو انسان ان کے دروازے پر نہیں جائے گا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا اور نہ ان کے ظلم و ستم پر ان کی مدد کرے گا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔
وہ حوض پر میرے پاس آئے گا اور اس کا پانی نوش کرے گا۔
(جامع الترمذي، الفتن، حدیث: 2259) (2)
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارا خاتمہ ایمان پر کر اور ہمیں ان لوگوں کی رفاقت نصیب کر جو تیری بارگاہ میں کامران و کامیاب ہیں اور قیامت کے دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر کا پانی پینے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6593]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5972
ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر رہوں گا تاکہ ان لوگوں کو دیکھوں جو میرے پاس آئیں گےاور کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے پکڑ لیا جائے گا تو میں کہوں گا اے میرے رب! یہ میری راہ پر چلنے والے اور میرے ساتھ ہیں تو جواب دیا جائے گا، کیا تمہیں معلوم نہیں، انہوں ن ے تیرے بعد کیا عمل کیے؟ اللہ کی قسم! یہ تیرے بعد مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5972]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کی دعا سے ثابت ہوتا ہے،
وہ ان لوگوں کو بھی اس میں داخل سمجھتے تھے،
جنہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور کے بعد دین میں نئی نئی باتیں داخل کیں یا دین سے برگشتہ ہو گئے،
لیکن وہ چونکہ کلمہ توحید پڑھتے تھے اور مسلمانوں کی طرح دینی احکام کو تسلیم کرتے تھے،
اگرچہ ان پر پوری طرح عمل پیرا نہیں تھے،
اس لیے وہ آپ کو اپنے امتی محسوس ہوں گے،
اس لیے بعض روایات میں أصحابی آیا ہے اور بعض میں من امتی،
کیونکہ دونوں قسم کے لوگ ہوں گے۔
یعنی کچھ ابوبکر کے دور میں مرتد ہونے والے اور کچھ بعد کی امت سے بدعتوں کے مرتکب،
جیسا کہ من امتی کے لفظ سے ثابت ہو رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5972]