الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
ایمان کے احکام و مسائل
6. باب الْأَمْرِ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرَائِعِ الدِّينِ وَالدُّعَاءِ إِلَيْهِ وَالسُّؤَالِ عَنْهُ وَحِفْظِهِ وَتَبْلِيغِهِ مَنْ لَمْ يَبْلُغْهُ 
6. باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
حدیث نمبر: 116
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار والفاظهم متقاربة، قال ابو بكر: حدثنا غندر ، عن شعبة ، قال الآخران: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن ابي جمرة ، قال: كنت اترجم بين يدي ابن عباس وبين الناس، فاتته امراة تساله عن نبيذ الجر، فقال: إن وفد عبد القيس، اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من الوفد، او من القوم؟ قالوا: ربيعة، قال: مرحبا بالقوم، او بالوفد، غير خزايا ولا الندامى، قال: فقالوا: يا رسول الله، إنا ناتيك من شقة بعيدة، وإن بيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، وإنا لا نستطيع ان ناتيك إلا في شهر الحرام، فمرنا بامر فصل نخبر به، من وراءنا ندخل به الجنة، قال: فامرهم باربع، ونهاهم عن اربع، قال: امرهم بالإيمان بالله وحده، وقال: هل تدرون ما الإيمان بالله؟ قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: " شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وان تؤدوا خمسا من المغنم، ونهاهم عن الدباء، والحنتم، والمزفت "، قال شعبة، وربما قال النقير، قال شعبة، وربما قال المقير: وقال: احفظوه، واخبروا به من ورائكم، وقال ابو بكر في روايته: من وراءكم، وليس في روايته المقير.حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بشار وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَة، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: إِنَّ وفدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ الْوَفْدُ، أَوْ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: رَبِيعَةُ، قَالَ: مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ، أَوْ بِالْوَفْدِ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَى، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ، مَنْ وَرَاءَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ، وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، قَالَ: أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ، وَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنَ الْمَغْنَمِ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ: وَقَالَ: احْفَظُوهُ، وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِكُمْ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: مَنْ وَرَاءَكُمْ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ.
شعبہ نے ابو جمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور (دوسرے) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا، ان کے پاس ایک عورت آئی، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی توحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا وفد ہے؟ (یا فرمایا: یہ کو ن لوگ ہیں؟) انہوں نے کہا: ربیعہ (قبیلہ سے ہیں۔) فرمایا: اس قوم (یا وفد) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا، ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کےرسول! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ (حائل) ہے، ہم (کسی) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے (گھروں میں) پیچھے لوگوں کو (بھی) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا: آپ نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزیں سے روکا۔ آپ نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کا حکم دیا اور پوچھا: جانتے ہو، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن (استعمال کرنے) سے منع کیا (شعبہ نے کہا:) ابو جمرہ نے شاید نقیر (لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن کہا یا شاید مقیر (تارکول ملا ہوا برتن) کہا۔ اور آپ نے فرمایا: ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے (والوں کو) بتا دو۔ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں (من ورائکم کے بجائے) من وراءکم (ان کو (بتاؤ) جو تمہارے پیچھے ہیں) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں (بلکہ نقیر کا ہے۔)
ابو جمرہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمان تھا۔ ان کے پاس ایک عورت ان سے گھڑے کے نبیذ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئی۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد آیا تو آپؐ نے پوچھا یہ وفد کون ہے؟ یا یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا: ربیعہ فرمایا قوم یا وفد کو خوش آمدید! جسے رسوائی ذلت اور شرمندگی و ندامت نہیں اٹھانی پڑی۔ ان لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسولؐ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان یہ کافر قبیلہ مُضَر حائل ہےاور ہم آپ ؐ کے پاس حرمت والے مہینوں کے سوا نہیں آ سکتے۔ لہذا آپؐ ہمیں دوٹوک (فیصلہ کُن) بات بتائیے۔ ہم اس کو اپنے پچھلےلوگوں کو بتائیں اور اس کے ذریعہ سے ہم جنت میں چلے جائیں۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے بتایا کہ آپؐ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے روکا۔ آپؐ نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: جانتے ہو! صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انھوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور تم مالِ غنیمت میں سےاس کا پانچواں حصہ دینا اور انھیں خشک کدّو سے بنائے ہوئے برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن سے منع کیا۔ شعبہ کہتے ہیں: ابو جمرہ ؒ نے بعض دفعہ نقیر لکڑی میں کھدائی کیا ہوا برتن کہا اور بعض دفعہ مقیر تارکول ملا ہوا برتن کہا اور آپؐ نے فرمایا: اس کو خود یاد رکھو اور اس کی اپنے پچھلوں کو خبر د۔ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں مِنْ وَّرَاءَكُمْ کی بجائے مَنْ وَرَاءَكُمْ کے الفاظ ہیں اور اس کی روایت میں مُقیر کا ذکر نہیں ہے۔
ترقیم فوادعبدالباقی: 17

تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث السابق برقم (115)» ‏‏‏‏
   سنن النسائى الصغرى5034عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله ثم فسرها لهم شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله
   صحيح البخاري7556عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع آمركم بالإيمان بالله هل تدرون ما الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وإقام الصلاة
   صحيح البخاري6176عبد الله بن عباسأربع وأربع أقيموا الصلاة آتوا الزكاة صوموا رمضان أعطوا خمس ما غنمتم لا تشربوا في الدباء والحنتم والنقير والمزفت
   صحيح البخاري53عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تعطوا من المغنم الخمس ونهاهم عن أربع عن الح
   صحيح البخاري3095عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وعقد بيده وإقام الصلاة
   صحيح البخاري7266عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة
   صحيح البخاري4369عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وعقد واحدة وإقام الصلاة
   صحيح البخاري4368عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله هل تدرون ما الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وإقام الصلاة
   صحيح البخاري3510عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله شهادة أن لا إله إلا الله وإقام الصلاة
   صحيح البخاري87عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وتعطوا الخمس من المغنم ونهاهم عن الدباء و
   صحيح البخاري523عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله ثم فسرها لهم شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله
   صحيح البخاري1398عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله وشهادة أن لا إله إلا الله وعقد بيده هكذا
   صحيح مسلم115عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وأن تؤدوا خمس ما غنمتم أنهاكم عن الدباء والحنتم والنقير والمقير
   صحيح مسلم116عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وأن تؤدوا خمسا
   جامع الترمذي2611عبد الله بن عباسآمركم بأربع الإيمان بالله ثم فسرها لهم شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة
   سنن أبي داود3692عبد الله بن عباسآمركم بأربع وأنهاكم عن أربع الإيمان بالله وشهادة أن لا إله إلا الله وعقد بيده واحدة
   سنن أبي داود4677عبد الله بن عباسشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصوم رمضان وأن تعطوا الخمس من المغنم
   مشكوة المصابيح17عبد الله بن عباسفامرهم باربع ونهاهم عن اربع: امرهم بالإيمان بالله وحده

تخریج الحدیث کے تحت حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 53  
´مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے`
«. . . فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ . . .»
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 53]

تشریح:
یہاں بھی مرجیہ کی تردید مقصود ہے۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا عبیداللہ مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«ومذهب السلف فى الايمان من كون الاعمال داخلة فى حقيقته فانه قد فسرالاسلام فى حديث جبرئيل بما فسربه الايمان فى قصة وفدعبدالقيس فدل هذا على ان الاشياءالمذكورة وفيها اداءالخمس من اجزاءالايمان وانه لا بدفي الايمان من الاعمال خلافا للمرجئة۔» [مرعاة، جلد اول، ص: 45]
یعنی سلف کا مذہب یہی ہے کہ اعمال ایمان کی حقیقت میں داخل ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث جبرئیل علیہ السلام (مذکورہ سابقہ) میں اسلام کی جو تفسیر بیان فرمائی وہی تفسیر آپ نے وفد عبدالقیس کے سامنے ایمان کی فرمائی۔ پس یہ دلیل ہے کہ اشیاء مذکورہ جن میں مال غنیمت سے خمس ادا کرنا بھی ہے یہ سب اجزاء ایمان سے ہیں اور یہ کہ ایمان کے لیے اعمال کا ہونا لابدی ہے۔ مرجیہ اس کے خلاف ہیں۔ (جو ان کی ضلالت و جہالت کی دلیل ہے)۔

جن برتنوں کے استعمال سے آپ نے منع فرمایا ان میں عرب کے لوگ شراب رکھا کرتے تھے۔ جب پینا حرام قرار پایا تو چند روز تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال کی بھی ممانعت فرما دی۔

یادرکھنے کے قابل:
یہاں حضرت مولانامبارک پوری رحمہ اللہ نے ایک یاد رکھنے کے قابل بات فرمائی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
«قال الحافظ وفيه دليل على تقدم اسلام عبدالقيس على قبائل الذين كانوا بينهم وبين المدينة ويدل على سبقهم الي الاسلام ايضا مارواه البخاري فى الجمعة عن ابن عباس قال ان اول جمعة جمعت بعدجمعة فى مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الله عليه وسلم فى مسجد عبدالقيس بجواثي من البحرين وانما جمعوا بعدرجوع وفدهم اليهم فدل على انهم سبقوا جميع القريٰ الي الاسلام انتهي واحفظه فانه ينفعك فى مسئلة الجمعة فى القريٰ۔» [مرعاة، جلد: اول، ص: 44]
یعنی حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ عبدالقیس کا قبیلہ مضر سے پہلے اسلام قبول کر چکا تھا جو ان کے اور مدینہ کے بیچ میں سکونت پذیر تھے۔ اسلام میں ان کی سبقت پر بخاری کی وہ حدیث بھی دلیل ہے جو نماز جمعہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ مسجد نبوی میں اقامت جمعہ کے بعد پہلا جمعہ جواثی نامی گاؤں میں جو بحرین میں واقع تھا، عبدالقیس کی مسجد میں قائم کیا گیا۔ یہ جمعہ انہوں نے مدینہ سے واپسی کے بعد قائم کیا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ وہ دیہات میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں۔ اسے یاد رکھو یہ گاؤں میں جمعہ ادا ہونے کے ثبوت میں تم کو نفع دے گی۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 53   
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 87  
´علم کی باتیں یاد کرنا اور دوسروں کو بتانا`
«. . . قَالَ: احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوهُ مَنْ وَرَاءَكُمْ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان (باتوں کو) یاد رکھو اور اپنے پیچھے (رہ جانے) والوں کو بھی ان کی خبر کر دو . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]

تشریح:
نوٹ: یہ حدیث کتاب الایمان کے اخیر میں گزر چکی ہے۔ حضرت امام نے اس سے ثابت فرمایا ہے کہ استاد اپنے شاگردوں کو تحصیل علم کے لیے ترغیب و تحریص سے کام لے سکتا ہے۔ مزید تفصیل وہاں دیکھی جائے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث\صفحہ نمبر: 87   
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 17  
´وفد عبدالقیس کو ایمانیات کی تعلیم`
«. . . وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟ أَوْ: مَنِ الْوَفْدُ؟ " قَالُوا: رَبِيعَةُ. قَالَ: " مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ: بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى ". قَالُوا: يَا رَسُول الله إِنَّا لَا نستطيع أَن نَأْتِيَكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فصل نخبر بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ عَنِ الْأَشْرِبَةِ. فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: - [13] - أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَحْدَهُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمُسَ» ‏‏‏‏وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَقَالَ: «احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ» وَلَفظه للْبُخَارِيّ ‏‏‏‏ . . .»
. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ یہ وفد کس قبیلے کا ہے یا کس قوم کا ہے؟ (اس میں راوی حدیث کا شبہہ ہے کہ آپ نے لفظ «قوم» فرمایا یا لفظ «قبيله» فرمایا) انہوں نے کہا: ہم ربیعہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرحبا اور خوش آمدید فرمایا، اس وفد یا قوم کو مبارک ہو، نہ دنیا میں ذلت و رسوائی ہو اور نہ آخرت میں شرمندگی نصیب ہو (یہ ان کے حق میں دعائے خیر اور بشارت ہے) ان لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (ہم دور دراز مسافت طے کر کے آئے ہیں) صرف عزت و احترام والے مہینے میں آ سکتے ہیں جن میں جنگ حرام ہے (دیگر مہینوں میں نہیں آ سکتے اس لیے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے جب غیر محرم کے مہینے میں حاضر ہوں گے تو مضر والے جنگ کریں گے اس لیے ہم انہیں مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں جن میں کافروں کے نزدیک بھی لڑائی حرام ہے) اس لیے آپ کوئی ایسی فیصل بات بتا دیجیے کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں انہیں جا کر بتائیں اور ہم خود بھی اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہونے کے لائق ہو جائیں۔ اور اسی کے ساتھ ہی ان لوگوں نے ان برتنوں کی بابت بھی دریافت کیا جن میں پہلے نبیذ بنائی جاتی تھی کہ اب ان برتنوں کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع فرمایا: انہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لاؤ۔ (یہ کہہ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جانتے ہو اللہ تعالیٰ پر ایمان کس طرح ہوتا ہے؟ (یا اللہ پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟) ان لوگوں نے عرض کیا کہ اس کو اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا اس طرح ہوتا ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہی عبادت کے لائق ہے، اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ (بیت المال) کو دینا۔ اور ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا۔ «حنتم» یعنی لاکھی ٹھلیا یا لاکھی مرتبان سے، «اَلدُّبَا» یعنی کدو کے تونبے سے، «نقير» یعنی لکڑی کے بنے ہوئے برتن سے، اور «مزفت» یعنی روغن دار رال کے برتن سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان باتوں کو یاد کر لو اور جو تمہارے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو جاکر بتا دو۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 17]

تخریج الحدیث:
[صحیح بخاری 53]،
[صحيح مسلم 115،116]

فقہ الحدیث
➊ حصول علم اور جنت میں جانے کا جذبہ کس قدر صادق ہے کہ ہر قسم کی آزمائش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میلوں کا سفر طے کیا، اسی طرح معرفت حق کے بعد دوسرے تک پہنچانے کا جذبہ بھی لائق تحسین ہے۔ سبحان اللہ
➋ اس حدیث میں واضح ثبوت ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، زکوٰۃ، روزوں اور مال غنیمت کی ادائیگی کو ایمان میں سے قرار دیا ہے۔ اس فرمان نبوی کے سراسر برعکس گمراہ فرقہ مرجیہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں۔!!
➌ سلام و کلام کے بعد مہمانوں کو خوش آمدید کہنا صحیح ہے۔ نیز شبہات سے بچنے میں ہی احتیاط ہے۔
➍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث یاد کر کے دوسرے لوگوں تک پہنچانا جنت میں داخلے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ اس حدیث سے محدثین کرام کی زبردست فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➎ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین باتوں سے منع کیا تھا، اب میں تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہوں، میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کو چلے جایا کرو، یقیناً ان کی زیارت میں عبرت اور نصیحت ہے۔ میں نے تمہیں چمڑے کے برتنوں کے علاوہ کئی برتنوں میں پینے سے روکا تھا، تو (اب) ہر قسم کے برتنوں میں پی سکتے ہو لیکن کوئی نشہ آور چیز مت پیو۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن کے بعد استعمال کرنے سے روکا تھا، اب اسے کھا سکتے ہو اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [صحيح مسلم: 977، سنن ابي داود: 3298وللفظ له]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں جو ممانعت وارد ہوئی ہے وہ منسوخ ہے۔ واللہ اعلم
➏ بعض اوقات مومن کمزور بھی ہو سکتا ہے، مگر اسے ہر حال میں کتاب و سنت پر ڈٹا رہنا چاہیے۔
   اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث\صفحہ نمبر: 17   
  الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2611  
´ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے آپ سے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ۱؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں، آپ نے فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں (۱) اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2611]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
حرمت والے مہینے چار ہیں:
رجب،
ذی قعدہ،
ذی الحجہ اور محرم،
چونکہ زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کو چھوڑ کر باقی دوسرے مہینوں میں جنگ و جدال جاری رہتا تھا،
اسی لیے قبیلۂ عبدقیس کے وفد کے لوگوں نے آپ ﷺ سے دوسرے مہینوں میں آپ تک نہ پہنچ سکنے کی معذرت کی اور آپﷺ سے دین کی اہم اور بنیادی باتیں پوچھیں۔
   سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث\صفحہ نمبر: 2611   
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3692  
´شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3692]
فوائد ومسائل:

حق کی معرفت لازمی طور پر اس بات کا تقاضا کرتی ہے۔
کہ انسان اس پر کاربند ہو اور دوسروں کو اس کی دعوت دے اور یہی فطرت سلیمہ ہے۔
جیسے کہ ان لوگوں نے اپنی ابتدائی گفتگو میں از خود اس کا اظہار کیا۔


دین واحکام کچھ احکام اور کچھ نواہی پر مشتمل ہے جس کی پاسداری کے بغیر اسلام اور دین مکمل نہیں ہوسکتا۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث\صفحہ نمبر: 3692   
  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 116  
1
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
أُتَرْجِمُ:
میں ترجمانی کرتا تھا،
ایک کی بات دوسرے کو سمجھانا،
ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا۔
(2)
نَبِيْذ:
انگور یا کھجوروں کو پانی میں بھگونا،
تاکہ جب ان کا اثر پانی میں منتقل ہو جائے تو اس کو پی لیا جائے۔
اگر اس میں سکر (نشہ)
پیدا ہو جائے،
تو پھر اس کا پینا جائز نہیں ہو گا۔
(3)
جَرٌّ:
جَرَّةٌ کی جمع ہے،
مٹکا،
گھڑا۔
(4)
مَرْحَبا:
رَحْب دوست،
کشادگی سے ماخوذ ہے،
کسی کی آمد پر مسرت و خوشی کا اظہار کرنا،
اس کو خوش آمدید کہنا۔
(5)
خَزَايَا:
خَزْيَان کی جمع ہے،
رسوا ذلیل۔
(6)
نَدَامَي:
نَدمان کی جمع ہے جو نادم شرمندہ،
پشیمان کے معنی میں ہے۔
(7)
شُقَّة:
شین کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ،
ضمہ (پیش)
کے ساتھ بہتر ہے،
دور کی یا طویل مسافت۔
فوائد ومسائل:

ایمان باللہ کی تفسیر وتفصیل میں آپ نے پانچ چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے حالانکہ آپ نے چار چیزوں کا حکم دینے کا کہا تھا اس کا جواب یہ ہے:
(1)
آپ (ﷺ) نے چار چیزوں کے لیے کہا تھا،
لیکن ربیعہ کا مضری کا فروں سے مقابلہ تھا،
اس لیے ان سے جہاد کا امکان تھا اور جہاد میں دشمن پر غلبہ وفتح کی صورت میں ما ل غنیمت حاصل ہو سکتا ہے،
اس لیے اسلوب کلام بدلتے ہوئے موقعہ محل کی مناسبت سے انہیں غنیمت کا حکم بھی بتا دیا،
اور اس کا انہیں خصوصی مخاطب بنایا (أن تودوا،
تم ادا کرو)

- (ب)
ادائے خمس،
زکاۃ ہی کا ایک شعبہ یا حصہ ہے،
الگ یا مستقل نہیں،
اس لیے زکاۃ ہی میں داخل ہوگا۔
(ج)
ادائے خمس کا عطف ایمان باللہ یا لفظ صلاۃ،
صوم اور زکاۃ پر نہیں ہے بلکہ امرکم باربع پر ہے کہ چار چیزوں کے حکم کے ساتھ جو عام ہیں سب کےلیے ہیں)
تمہیں خصوصی طور پر ادائے خمس کا حکم دیتا ہوں۔
چار برتنوں میں خصوصی طور پر نبیذ تیار کرنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ لوگ ان برتنوں میں شراب تیار کرتے تھے اور ان میں نشہ جلد پیدا ہو جاتا تھا،
اس لیے شراب کی حرمت کے بعد ان میں نبیذ تیار کرنے سے منع کر دیا گیا،
تاکہ ان برتنوں کو دیکھ کر شراب کا خیال نہ آئے اور بے خبری یاغفلت وسستی سے غیر شعوری طور پر نبیذ میں نشہ پیدا ہو جانے کے بعد اس کو پی نہ لیا جائے لیکن جب شراب کی حرمت پر ایک عرصہ گزر گیا اور اس سے نفرت دلوں میں راسخ ہوگئی تو پھر ان برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی اور بتا دیا گیا کہ اس کو نشہ آور ہونے کے بعدنہ پینا جیسا کہ آگے حضرت بریدہ کی حدیث ارہی ہے،
ابن عمر،
ابن عباس رضی اللہ عنہم اور امام مالک ؒ،
امام احمد ؒ،
اسحاق ؒ کے نزدیک ان میں نبیذ بنانے کی حرمت اب بھی موجود ہے۔
(شرح مسلم: 1/34)
لیکن ان کی یہ بات درست نہیں ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث\صفحہ نمبر: 116   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.