🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب قول النبى صلى الله عليه وسلم: العقيق واد مبارك :
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ وادی عقیق مبارک وادی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ رُئِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي، قِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ، وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَخَّى بِالْمُنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُمْ , وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ".
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے کہ معرس کے قریب ذوالحلیفہ کی بطن وادی (وادی عقیق) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب دکھایا گیا۔ (جس میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا تھا کہ آپ اس وقت بطحاء مبارکہ میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا وہ اس مقام کو ڈھونڈ رہے تھے جہاں عبداللہ اونٹ بٹھایا کرتے تھے یعنی جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اترا کرتے تھے۔ وہ مقام اس مسجد کے نیچے کی طرف میں ہے جو نالے کے نشیب میں ہے۔ اترنے والوں اور راستے کے بیچوں بیچ (وادی عقیق مدینہ سے چار میل بقیع کی جانب ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1535]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب دکھایا گیا جبکہ آپ ذوالحلیفہ کی ایک وادی (عقیق) کے درمیان رات کا پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ آپ سے کہا گیا: آپ اس وقت ایک بابرکت میدان میں ہیں۔ راوی حدیث کہتا ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے ہمیں اسی مقام پر ٹھہرایا۔ وہ اسی جگہ کو تلاش کرتے جہاں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اونٹ بٹھایا کرتے تھے اور وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا قصد کرتے تھے، بطن وادی میں وہ مقام مسجد کی نچلی جانب ہے، یعنی پڑاؤ کرنے والوں اور راستے کے درمیان میں واقع ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَحَرَّى أَمَاكِنَ مِنَ الطَّرِيقِ فَيُصَلِّي فِيهَا، وَيُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يُصَلِّي فِيهَا، وَأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي تِلْكَ الْأَمْكِنَةِ"، وَحَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي فِي تِلْكَ الْأَمْكِنَةِ، وَسَأَلْتُ سَالِمًا فَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا وَافَقَ نَافِعًا فِي الْأَمْكِنَةِ كُلِّهَا، إِلَّا أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي مَسْجِدٍ بِشَرَفِ الرَّوْحَاءِ.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، کہا میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ (مدینہ سے مکہ تک) راستے میں کئی جگہوں کو ڈھونڈھ کر وہاں نماز پڑھتے اور کہتے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مقامات پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بیان کیا کہ وہ ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور میں نے سالم سے پوچھا تو مجھے خوب یاد ہے کہ انہوں نے بھی نافع کے بیان کے مطابق ہی تمام مقامات کا ذکر کیا۔ فقط مقام شرف روحاء کی مسجد کے متعلق دونوں نے اختلاف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 483]
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ (مکے سے مدینے کے) راستے پر بعض مخصوص مقامات کو تلاش کر کے وہاں نماز پڑھتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ ان کے والد گرامی (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان جگہوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھ سے حضرت نافع رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان مقامات پر نماز پڑھتے تھے۔ اور میں نے اس سلسلے میں حضرت سالم رحمہ اللہ سے معلوم کیا تو انہوں نے بھی وہی مقامات بتائے جن کی نشاندہی حضرت نافع رحمہ اللہ نے کی تھی، البتہ شرف الروحاء کی مسجد کے متعلق دونوں کا کچھ اختلاف تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں