🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب من لم يدخل الكعبة:
باب: جو کعبہ میں داخل نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قال:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بالبيت، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ؟ , قَالَ: لَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفی نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کا طواف کر کے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1600]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عمرہ کیا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کیں۔ آپ کے ساتھ ایک ایسا شخص بھی تھا جو دوسرے لوگوں سے آپ کو اوٹ میں رکھتا تھا۔ ایک دوسرے آدمی نے اس سے دریافت کیا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ اس نے کہا: نہیں، یعنی آپ داخل نہیں ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
قَالَ: فَحَدِّثْنَا مَا قَالَ لِخَدِيجَةَ، قَالَ: بَشِّرُوا، خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
کہا انہوں نے پھر پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا کچھ فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا تھا خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک موتی کے گھر کی بشارت ہو، جس میں نہ کسی قسم کا شور و غل ہو گا نہ کوئی تکلیف ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1792]
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے متعلق کیا بیان کیا تھا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں ایک محل کی خوشخبری دو جو موتیوں سے بنا ہوا ہوگا۔ اس میں کہیں شوروغل اور ذرہ بھر مشقت نہ ہوگی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ , فَطُفْنَا مَعَهُ , وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ , وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعلیٰ بن عبید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ (قضاء) کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی بھی کی۔ ہم آپ کی اہل مکہ سے حفاظت کرتے تھے تاکہ کوئی تکلیف کی بات آپ کو پیش نہ آ جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4188]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ قضا کیا تو ہم آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ جب آپ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو ہم مکہ والوں سے آپ کی حفاظت کر رہے تھے، مبادا کوئی آپ کو تکلیف پہنچائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4188]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4255
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى، يَقُولُ:" لَمَّا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَتَرْنَاهُ مِنْ غِلْمَانِ الْمُشْرِكِينَ، وَمِنْهُمْ أَنْ يُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ پر آڑ کئے ہوئے مشرکین کے لڑکوں اور مشرکین سے آپ کی حفاظت کرتے رہتے تھے تاکہ وہ آپ کو کوئی ایذا نہ دے سکیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4255]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم نے آپ کو مشرکین اور ان کے لڑکوں سے پردے میں رکھا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت نہ پہنچا سکیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَأَتَى الصَّفَا والمروة وَأَتَيْنَاهَا مَعَهُ، وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبٌ لِي: أَكَانَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ , قَالَ: لَا.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے اسماعیل نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ بھی کیا اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کیا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے (بیت اللہ کا) طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی طواف کیا، پھر صفا اور مروہ آئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ والوں سے حفاظت کر رہے تھے کہ کہیں کوئی کافر تیر نہ چلا دے، میرے ایک ساتھی نے ابن ابی اوفی سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں اندر داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1791]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا اور ہم نے بھی آپ کے ہمراہ عمرہ کیا، جب آپ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے صفا اور مروہ کی سعی کی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ سعی کی۔ ہم اہل مکہ سے آپ کی حفاظت کرتے تھے مبادا کوئی مشرک آپ کو تیر مار دے۔ میرے ایک ساتھی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس وقت) بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ (اس وقت بیت اللہ میں داخل) نہیں (ہوئے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں