🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. باب الوقوف على الدابة بعرفة:
باب: عرفات میں جانور پر سوار ہو کر وقوف کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ،" أَنَّ نَاسًا اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ بِصَائِمٍ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے ابوالنضر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے، ان سے ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے یہاں لوگوں کا عرفات کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے سے متعلق کچھ اختلاف ہو گیا، بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (عرفہ کے دن) روزے سے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، اس لیے انہوں نے آپ کے پاس دودھ کا ایک پیالہ بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اونٹ پر سوا ہو کر عرفات میں وقوف فرما رہے تھے، آپ نے وہ دودھ پی لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1661]
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے ہاں چند لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے روزہ نہیں رکھا۔ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا پیالہ بھیجا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر وقوف فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوشِ جاں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1661]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1658
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ،" شَكَّ النَّاسُ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے سالم ابوالنصر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ام فضل کے غلام عمیر سے سنا، انہوں نے ام فضل رضی اللہ عنہا سے کہ عرفہ کے دن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا، اس لیے میں نے آپ کو پینے کے لیے کچھ بھیجا جسے آپ نے پی لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1658]
حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عرفہ کے دن لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مشروب بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں