🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
140. باب إذا رمى الجمرتين يقوم ويسهل مستقبل القبلة:
باب: جب حاجی دونوں جمروں کی رمی کر چکے تو ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑا ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1751
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّهُ كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يُسْهِلَ، فَيَقُومَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطَى، ثُمَّ يَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيَسْتَهِلُ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيَقُومُ طَوِيلًا وَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا، ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے طلحہ بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یونس نے زہری سے بیان کیا، ان سے سالم نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، پھر آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر پہنچ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے اسی طرح دیر تک کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر جمرہ وسطیٰ کی رمی کرتے، پھر بائیں طرف بڑھتے اور ایک ہموار زمین پر قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے، یہاں بھی دیر تک کھڑے کھڑے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے رہتے، اس کے بعد والے نشیب سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے اس کے بعد آپ کھڑے نہ ہوتے بلکہ واپس چلے آتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1751]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قریب والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے بعد «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کر قبلہ رو کھڑے ہو جاتے اور دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے، اس طرح دیر تک وہاں کھڑے رہتے، پھر درمیان والے جمرے کو کنکریاں مارتے، اس کے بعد بائیں جانب نرم و ہموار زمین پر چلے جاتے اور قبلہ رو ہو جاتے، پھر دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے اور یوں دیر تک وہاں کھڑے رہتے، پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے، پھر واپس آجاتے اور فرماتے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ،" أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَآهُ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، فَجَعَلَ البيت عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا انہوں نے دیکھا جمرہ عقبہ کی سات کنکریوں کے ساتھ رمی کے وقت آپ نے بیت اللہ کو تو اپنی بائیں طرف اور منی کو دائیں طرف کر لیا پھر فرمایا کہ یہی ان کا بھی مقام تھا جن پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی تھی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1749]
حضرت عبدالرحمان بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو دیکھا کہ انہوں نے بیت اللہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کر کے جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، پھر فرمایا: یہ اس ستودہ صفات صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1753
وَقَالَ مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الَّتِي تَلِي مَسْجِدَ مِنًى يَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ تَقَدَّمَ أَمَامَهَا فَوَقَفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمَى بِحَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْحَدِرُ ذَاتَ الْيَسَارِ مِمَّا يَلِي الْوَادِيَ فَيَقِفُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو، ثُمَّ يَأْتِي الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا" , قَالَ الزُّهْرِيُّ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ مِثْلَ هَذَا، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
اور محمد بن بشار نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی اور انہیں زہری نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرہ کی رمی کرتے جو منی کی مسجد کے نزدیک ہے تو سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر «الله اكبر» کہتے، پھر آگے بڑھتے اور قبلہ رخ کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرتے تھے، یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک کھڑے رہتے تھے پھر جمرہ ثانیہ (وسطی) کے پاس آتے یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، پھر بائیں طرف نالے کے قریب اتر جاتے اور وہاں بھی قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے اور یہاں بھی سات کنکریوں سے رمی کرتے اور ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے، اس کے بعد واپس ہو جاتے یہاں آپ دعا کے لیے ٹھہرتے نہیں تھے۔ زہری نے کہا کہ میں نے سالم سے سنا وہ بھی اسی طرح اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1753]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے (بواسطہ سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ عن ابن عمر رضی اللہ عنہما) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو رمی کرتے جو مسجد منیٰ کے قریب ہے تو اسے سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کنکری مارتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ پھر آگے بڑھ جاتے اور قبلہ رو ہو کر ٹھہرتے، پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، اس طرح دیر تک وہاں ٹھہرتے۔ پھر دوسرے جمرے کے پاس آتے اور اس کو سات کنکریاں مارتے۔ جب بھی کنکری مارتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ پھر بائیں جانب وادی کے قریب اتر جاتے، وہاں بھی قبلہ رو کھڑے ہوتے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کے پاس آتے، اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے۔ اس کے بعد واپس ہو جاتے اور اس کے پاس دعا کے لیے نہ ٹھہرتے۔ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے سنا، وہ اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" كَانَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ثُمَّ يُكَبِّرُ عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُسْهِلُ، فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى، كَذَلِكَ فَيَأْخُذُ ذَاتَ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ، وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قِيَامًا طَوِيلًا فَيَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَرْمِي الْجَمْرَةَ ذَاتَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا، وَيَقُولُ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پہلے جمرہ کی رمی سات کنکریوں کے ساتھ کرتے اور ہر کنکری پر «الله اكبر» کہتے تھے، اس کے بعد آگے بڑھتے اور ایک نرم ہموار زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، دعائیں کرتے رہتے اور دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے پھر جمرہ وسطی کی رمی میں بھی اسی طرح کرتے اور بائیں طرف آگے بڑھ کر ایک نرم زمین پر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے، بہت دیر تک اسی طرح کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہتے، پھر جمرہ عقبہ کی رمی بطن وادی سے کرتے لیکن وہاں ٹھہرتے نہیں تھے، آپ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1752]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جمرہ اولیٰ کو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری مارنے کے بعد «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے، پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین میں قبلہ رو کھڑے ہو جاتے اور دیر تک کھڑے رہتے، دعا کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر جمرہ وسطی کو رمی کرتے اور بائیں جانب نرم زمین میں چلے جاتے اور دیر تک قبلہ رو ہو کر کھڑے رہتے، دعا کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے، اس کے بعد جمرہ عقبہ کو وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں