صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ہیں؟
حدیث نمبر: 1779
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ" اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ رَدُّوهُ، وَمِنَ الْقَابِلِ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةً فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ وہاں کیا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے واپس کر دیا تھا اور دوسرے سال (اسی) عمرہ حدیبیہ (کی قضاء) کی تھی اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1779]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عمرہ کیا جب مشرکین نے آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا تھا، پھر آئندہ سال عمرہ حدیبیہ، تیسرا ذوالقعدہ میں اور چوتھا عمرہ اپنے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1779]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1778
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ حَسَّانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" كَمْ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعٌ عُمْرَةُ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ صَالَحَهُمْ، وَعُمْرَةُ الْجِعِرَّانَةِ إِذْ قَسَمَ غَنِيمَةَ أُرَاهُ حُنَيْنٍ، قُلْتُ: كَمْ حَجَّ؟ قَالَ: وَاحِدَةً".
ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1778]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: چار۔ ایک عمرہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ کے مہینے میں کیا جبکہ مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس کر دیا تھا۔ دوسرا عمرہ آئندہ سال ذوالقعدہ میں کیا جبکہ مشرکین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کا معاہدہ فرمایا۔ تیسرا عمرہ جعرانہ جب مالِ غنیمت تقسیم کیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ مالِ غنیمت غزوہ حنین کا تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے تھے؟ انہوں نے فرمایا: صرف ایک حج کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب العمرة/حدیث: 1778]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة