🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب الصوم فى السفر والإفطار:
باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَاهُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، تَابَعَهُ جَرِيرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1941]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (شام کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو آفتاب کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو گھول۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تک سورج کی روشنی باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ چنانچہ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو تیار کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوش کیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔ جریر اور ابو بکر عیاش نے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے، وہ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب سے سنا، ان سے ان کے باپ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1954]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے، نیز سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار اپنا روزہ افطار کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ يَا فُلَانُ قُمْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن شیبانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ فتح جو رمضان میں ہوا) سفر میں تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اے فلاں! میرے لیے اٹھ کے ستو گھول، انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول لیکن ان کا اب بھی خیال تھا کہ ابھی دن باقی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول چنانچہ اترے اور ستو انہوں نے گھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ رات اس مشرق کی طرف سے آ گئی تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1955]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اے فلاں! اٹھ اور ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام ہونے دیتے، آپ نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو گھول۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام ہونے دیجیے، آپ نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔ اس نے پھر عرض کیا: ابھی تو دن باقی ہے، آپ نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ چنانچہ وہ شخص اترا اور اس نے ستو تیار کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوش جاں فرمایا، پھر ارشاد ہوا: جب تم دیکھو کہ رات اس طرف سے آگئی ہے تو روزہ دار کو چاہیے کہ وہ روزہ افطار کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1956
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چنانچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آ گئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1956]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی سے) فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام تو ہونے دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔ اس نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی دن باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو تیار کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ وہ ادھر سے آ گئی ہے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کر دے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1956]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ (اونٹ سے) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول (وقت ہو گیا ہے) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آ گئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1958]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ نے روزہ رکھا۔ جب شام ہوئی تو ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اگر آپ شام تک انتظار کرتے تو بہتر ہوتا۔ آپ نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ جب تو دیکھے کہ رات ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار کو افطار کر دینا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1958]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ:" كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ، فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5297]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تھوڑی سی دیر کر لیں تو بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر تھوڑی سی مزید دیر کر لیں تو اچھا ہے کیونکہ ابھی دن باقی معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: اترو اور میرے لیے ستو تیار کرو۔ چنانچہ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسری مرتبہ کہنے پر اس نے ستو تیار کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوشِ جاں کیا، پھر اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ رکھنے والا اپنا روزہ افطار کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
وضاحت: باب اور حدیث میں مناسبت جاننےکے لیے آپ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5293 کے فوائد و مسائل از الشیخ محمد حسین میمن دیکھیں۔

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں