صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب بيع الجمار وأكله:
باب: کھجور کا گابھا بیچنا یا کھانا (جو سفید سفید اندر سے نکلتا ہے)۔
حدیث نمبر: 2209
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ جُمَّارًا، فَقَالَ: مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ، فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ، قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک سے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے مجاہد نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کا گابھا کھا رہے تھے۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن حاضرین میں، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا (اس لیے بطور ادب میں چپ رہا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2209]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا جبکہ آپ کھجور کا گودا کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ہے جو بندہ مومن کی طرح ہے (بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟)“ میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن جتنے لوگ وہاں موجود تھے میں ان سب میں کمسن تھا، لہذا چپ رہا، آپ نے خود ہی فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 61
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ مگر میں اپنی (کم سنی کی) شرم سے نہ بولا۔ آخر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 61]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک ایسا درخت بھی ہے جو کبھی پت جھڑ نہیں ہوتا اور مسلمان کو اس سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خیالات جنگل کے درختوں کی طرف گئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں (کہتے ہوئے) شرما گیا۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ فرمائیں وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 62
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ (ایک مرتبہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 62]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کے مشابہ ہے۔ مجھے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ اس پر لوگوں نے صحرائی درختوں کا خیال کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے (لیکن بزرگوں کی موجودگی میں بتانے سے مجھے شرم آئی۔) آخر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ہی بتا دیجیے وہ کون سا درخت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا عَلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ، فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الْمُسْلِمِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے علی (بن مدینی) نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے ابن ابی نجیح نے مجاہد کے واسطے سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینے تک رہا، میں نے (اس) ایک حدیث کے سوا ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اور حدیث نہیں سنی، وہ کہتے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک گابھا لایا گیا۔ (اسے دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر) میں نے ارادہ کیا کہ عرض کروں کہ وہ (درخت) کھجور کا ہے مگر چونکہ میں سب میں چھوٹا تھا اس لیے خاموش رہا۔ (پھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 72]
حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینے تک رہا لیکن میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث کے سوا اور کوئی چیز بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ کی خدمت میں کھجور کا گودا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کی مثال مسلمان کی طرح ہے۔“ میں نے ارادہ کیا کہ بتاؤں وہ کھجور ہے لیکن میں لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا، اس لیے خاموش رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَهِيَ مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَادِيَةِ، وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ أَبِي بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِي، فَقَالَ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) فرمایا کہ درختوں میں سے ایک درخت (ایسا) ہے۔ جس کے پتے (کبھی) نہیں جھڑتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ مجھے بتلاؤ وہ کیا (درخت) ہے؟ تو لوگ جنگلی درختوں (کی سوچ) میں پڑ گئے اور میرے دل میں آیا (کہ میں بتلا دوں) کہ وہ کھجور (کا پیڑ) ہے، عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے شرم آ گئی (اور میں چپ ہی رہا) تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی (خود) اس کے بارہ میں بتلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ کھجور ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں جو بات تھی وہ میں نے اپنے والد (عمر رضی اللہ عنہ) کو بتلائی، وہ کہنے لگے کہ اگر تو (اس وقت) کہہ دیتا تو میرے لیے ایسے ایسے قیمتی سرمایہ سے زیادہ محبوب ہوتا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 131]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ اس کی شان مسلمان کی طرح ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں کی طرف گئے، لیکن میرے ذہن میں یہ آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (لیکن) مجھے شرم دامن گیر ہو گئی۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہی بتائیں وہ کون سا درخت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اپنے والد گرامی (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) سے وہ بات بیان کی جو میرے دل میں آئی تھی تو انہوں نے کہا: کاش! تم نے یہ بات کہہ دی ہوتی تو یہ میرے لیے بڑی دولت ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4698
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ، أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا، وَلَا، وَلَا، وَلَا تُؤْتِي أُكْلَهَا كُلَّ حِينٍ"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ"، فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ: يَا أَبَتَاهُ، وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ، قَالَ: لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، أَوْ أَقُولَ شَيْئًا، قَالَ عُمَرُ: لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا، وَكَذَا.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: بابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے (لال لال اونٹ کا) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 4698]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: ”مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو بندہ مسلم سے مشابہ ہے یا مرد مسلم کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے اور نہ یہ ہوتا ہے، نہ یہ ہوتا ہے اور نہ یہ ہوتا ہے۔ وہ اپنا پھل ہر موسم میں دیتا ہے۔““ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میرے دل میں خیال آیا وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ خاموش بیٹھے ہیں تو میں نے بھی جواب دینا مناسب نہ خیال کیا۔“ جب انہوں نے کوئی جواب نہ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ جب ہم اس مجلس سے اٹھ آئے تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”ابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں نے دیکھا کہ آپ حضرات خاموش ہیں تو میں نے مناسب نہ سمجھا کہ آگے بڑھ کر کچھ بات کروں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے زیادہ خوشی ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 4698]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5444
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذَا أُتِيَ بِجُمَّارِ نَخْلَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لَمَا بَرَكَتُهُ كَبَرَكَةِ الْمُسْلِمِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي النَّخْلَةَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ الْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا عَاشِرُ عَشَرَةٍ أَنَا أَحْدَثُهُمْ، فَسَكَتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5444]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ آپ کے پاس کھجور کا گودا لایا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جس کی برکت، مسلمان کی برکت جیسی ہے۔“ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے، میں نے سوچا کہ کہہ دوں: اللہ کے رسول! یہ کھجور کا درخت ہے، لیکن جب میں نے ادھر ادھر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان سب سے چھوٹا تھا، اس لیے میں خاموش رہا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ درخت کھجور کا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5444]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5448
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً تَكُونُ مِثْلَ الْمُسْلِمِ وَهِيَ النَّخْلَةُ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مثل مسلمان کے ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5448]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں سے ایک درخت مسلمان جیسا ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5448]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6122
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ"، فَقَالَ الْقَوْمُ: هِيَ شَجَرَةُ كَذَا هِيَ شَجَرَةُ كَذَا، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" وَعَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مِثْلَهُ. وَزَادَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6122]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال اس سر سبز درخت کی طرح ہے جس کے پتے نہ گرتے ہیں نہ جھڑتے ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔“ میں نے کھجور کا درخت بتانے کا ارادہ کیا، میں چونکہ کمسن نوخیز تھا اس لیے میں نے بتانے سے شرم محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ درخت کھجور کا ہے۔“ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اس بات کا تذکرہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اگر تم جواب دے دیتے تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6144
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا وَلَا تَحُتُّ وَرَقَهَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، وَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمَّا لَمْ يَتَكَلَّمَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ النَّخْلَةُ" فَلَمَّا خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَهَا؟ لَوْ كُنْتَ قُلْتَهَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: مَا مَنَعَنِي إِلَّا أَنِّي لَمْ أَرَكَ وَلَا أَبَا بَكْرٍ تَكَلَّمْتُمَا فَكَرِهْتُ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس درخت کا نام بتاؤ، جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑا کرتے۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے کہنا پسند نہیں کیا۔ کیونکہ مجلس میں حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسے اکابر بھی موجود تھے۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہیں کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ جب میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تو میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، انہوں نے کہا پھر تم نے کہا کیوں نہیں؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا میرے لیے اتنا مال اور اسباب ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (میں نے عرض کیا) صرف اس وجہ سے میں نے نہیں کہا کہ جب میں نے آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کو خاموش دیکھا تو میں نے آپ بزرگوں کے سامنے بات کرنا برا جانا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6144]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس درخت کا نام بتاؤ جس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں گرتے۔“ میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے اس کا جواب دینا مناسب خیال نہ کیا کیونکہ مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (جیسے اکابر صحابہ) موجود تھے۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“ چنانچہ جب میں اپنے والد کے ہمراہ وہاں سے باہر نکلا تو میں نے کہا: ”اے ابو جان! میرے دل میں آیا تھا کہ وہ کھجور کا درخت ہے“، انہوں نے فرمایا: ”پھر تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے منع کیا تھا؟ اگر تم کہہ دیتے تو مجھے اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے صرف اس امر نے منع کیا کہ آپ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خاموش ہیں تو میں نے آپ (بزرگوں) کے سامنے بات کرنا برا خیال کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6144]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة