صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ:
باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَبَهْزٌ، وَالْجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ: قَدْرِ صَاعٍ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں (ابوسلمہ) اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ (نوٹ: صاع کے اندر 2.488 کلو گرام ہوتا ہے۔) [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 251]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بھائی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا، پھر غسل کیا اور اسے اپنے سر پر بہایا، اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز (بن اسعد) اور (عبدالملک بن ابراہیم) جدی نے حضرت شعبہ رحمہ اللہ سے قدرِ صاع کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا مجھ سے ابن جبر نے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دھوتے یا (یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی) سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 201]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو ایک صاع سے پانچ مد تک پانی استعمال کرتے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 258
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ، فَأَخَذَ بِكَفِّهِ فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ: بِهِمَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ".
محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم (ضحاک بن مخلد) نے بیان کیا، وہ حنظلہ بن ابی سفیان سے، وہ قاسم بن محمد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرنا چاہتے تو حلاب کی طرح ایک چیز منگاتے۔ پھر (پانی کا چلو) اپنے ہاتھ میں لیتے اور سر کے داہنے حصے سے غسل کی ابتداء کرتے۔ پھر بائیں حصہ کا غسل کرتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے بیچ میں لگاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 258]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت کرنے کا ارادہ فرماتے تو حلاب جیسی کوئی چیز منگواتے اور اسے اپنے ہاتھ میں لے کر پہلے سر کے دائیں حصے سے ابتدا کرتے، پھر بائیں جانب لگاتے۔ اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے تالو پر مالش کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الغسل/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة