صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ قَبُولِ الْهَدِيَّةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ:
باب: مشرکین کا ہدیہ قبول کر لینا۔
حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ،" وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ"، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے استعمال سے (مردوں کو) منع فرماتے تھے۔ صحابہ کو بڑی حیرت ہوئی (کہ کتنا عمدہ ریشم ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (تمہیں اس پر حیرت ہے) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2615]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ پیش کیا گیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ریشم سے منع فرمایا کرتے تھے۔ لوگوں کو یہ (جبہ) دیکھ کر بہت تعجب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے کہیں اچھے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2616
وَقَالَ سَعِيدٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، إِنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور سعید نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ دومہ (تبوک کے قریب ایک مقام) کے اکیدر (نصرانی) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2616]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ دومۃ الجندل کے حاکم اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3248
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةُ سُنْدُسٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سندس (ایک خاص قسم کا ریشم) کا ایک جبہ تحفہ میں پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مردوں کے لیے) ریشم کے استعمال سے پہلے ہی منع فرما چکے تھے۔ لوگوں نے اس جبے کو بہت ہی پسند کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہتر ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 3248]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی جبہ بطور تحفہ پیش کیا گیا جبکہ آپ ریشم پہننے سے منع فرماتے تھے۔ لوگ (اس کی عمدگی اور بناوٹ دیکھ کر) بہت خوش ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو جنت میں ملنے والے رومال اس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة