صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب بلوغ الصبيان وشهادتهم:
باب: بچوں کا بالغ ہونا اور ان کی شہادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْنِي، ثُمَّ عَرَضَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي، قَالَ نَافِعٌ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَدٌّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، وَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ يَفْرِضُوا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ".
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جنگ پر جانے کے لیے) پیش ہوئے تو انہیں اجازت نہیں ملی، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔ پھر غزوہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ نافع نے بیان کیا کہ جب میں عمر بن عبدالعزیز کے یہاں ان کی خلافت کے زمانے میں گیا تو میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان (پندرہ سال ہی کی) حد ہے۔ پھر انہوں نے اپنے حاکموں کو لکھا کہ جس بچے کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے (اس کا فوجی وظیفہ) بیت المال سے مقرر کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2664]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوئے جبکہ ان کی عمر چودہ برس ہو چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ میں جانے کی اجازت نہ دی۔ پھر میں خندق کے دن پیش ہوا تو میری عمر پندرہ سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگ میں شمولیت کی اجازت دے دی۔ حضرت نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا جبکہ وہ خلیفہ تھے تو میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ بالغ اور نابالغ کے درمیان حد ہے، انہوں نے اپنے حکام کو لکھا کہ جو لوگ پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جائیں ان کے نام دیوان میں لکھ لیا کریں اور ان کے وظیفے مقرر کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4097
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ," أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْهُ , وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر پیش کیا (تاکہ لڑنے والوں میں انہیں بھی بھرتی کر لیا جائے) اس وقت وہ چودہ سال کے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہیں دی۔ لیکن غزوہ خندق کے موقع پر جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے کو پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منظور فرما لیا۔ اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر کے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 4097]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”انہوں نے خود کو غزوہ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھرتی کے لیے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت نہ دی جبکہ ان کی عمر اس وقت چودہ سال تھی، لیکن غزوہ خندق کے موقع پر خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، اس وقت وہ پندرہ سال کی عمر میں تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشهادات/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة