صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب البيعة فى الحرب أن لا يفروا:
باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُبَايِعُنَا، قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3078
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ‘ انہیں خالد نے ‘ انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3078]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3079
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: جَاءَ مُجَاشِعٌ بِأَخِيهِ مُجَالِدِ بْنِ مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَذَا مُجَالِدٌ يُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ وَلَكِنْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ‘ انہیں خالد نے ‘ انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجاشع اپنے بھائی مجالد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ مجالد ہیں۔ آپ سے ہجرت پر بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ ہاں میں اسلام پر ان سے بیعت لے لوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ:" وَهُوَ كَذَلِكَ، لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے، انہوں نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو باربار چہرے پر ڈالتے۔ جب کچھ افاقہ ہوتا تو اپنے مبارک چہرے سے چادر ہٹا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا، یہود و نصاریٰ پر اللہ کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ: انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا أُبَايِعُهُ عَلَى: الْإِسْلَامِ، وَالْجِهَادِ"، فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ، وَقَالَ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ: أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ.
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں اپنے بھائی (ابومعبد رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرانے کے لیے لے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکا۔ البتہ میں اس سے اسلام اور جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔ ابوعثمان نے کہا کہ پھر میں نے ابومعبد رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا اور خالد حذاء نے بھی ابوعثمان سے بیان کیا، ان سے مجاشع رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے بھائی مجالد رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے تھے، (پھر حدیث کو آخر تک بیان کیا، اس کو اسماعیل نے وصل کیا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4306
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا"، فَقُلْتُ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ، قَالَ:" أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَالْإِيمَانِ، وَالْجِهَادِ"، فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ، وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی (مجالد) کو لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اسے اس لیے لے کر حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ ہجرت پر اس سے بیعت لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کرنے والے اس کی فضیلت و ثواب کو حاصل کر چکے (یعنی اب ہجرت کرنے کا زمانہ تو گزر چکا)۔ میں نے عرض کیا: پھر آپ اس سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ ابی عثمان نہدی نے کہا کہ پھر میں (مجاشع کے بھائی) ابومعبد مجالد سے ملا وہ دونوں بھائیوں سے بڑے تھے، میں نے ان سے بھی اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے حدیث ٹھیک طرح بیان کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4306]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ: انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا أُبَايِعُهُ عَلَى: الْإِسْلَامِ، وَالْجِهَادِ"، فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ، وَقَالَ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ: أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ.
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں اپنے بھائی (ابومعبد رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرانے کے لیے لے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکا۔ البتہ میں اس سے اسلام اور جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔ ابوعثمان نے کہا کہ پھر میں نے ابومعبد رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا اور خالد حذاء نے بھی ابوعثمان سے بیان کیا، ان سے مجاشع رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے بھائی مجالد رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے تھے، (پھر حدیث کو آخر تک بیان کیا، اس کو اسماعیل نے وصل کیا ہے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة