🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب ومن الدليل على أن الخمس لنوائب المسلمين ما سأل هوازن النبى صلى الله عليه وسلم برضاعه فيهم فتحلل من المسلمين:
باب: اس بات کی دلیل کہ پانچواں حصہ مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے ہے وہ واقعہ ہے کہ ہوازن کی قوم نے اپنے دودھ ناطے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، ان کے مال قیدی واپس ہوں تو آپ نے لوگوں سے معاف کرایا کہ اپنا حق چھوڑ دو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ إِمَّا قَالَ: فِي بِضْعٍ وَإِمَّا، قَالَ: فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، وَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ، قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے۔ (میری عمران دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں) ایک ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابورہم۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ (یہ لوگ روانہ ہوئے تھے) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اور پھر سب ایک ساتھ (مدینہ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے مجاہدوں کے ساتھ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا (حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3136]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے کی خبر اس وقت پہنچی جب ہم یمن میں تھے، اس لیے ہم بھی مہاجرین کی حیثیت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا اور میرے دو بڑے بھائی: ان میں سے ایک ابو بردہ اور دوسرا ابو رہم تھا۔ ہماری قوم کے باون یا تریپن افراد تھے۔ ہم کشتی میں سوار ہوئے جس نے ہمیں نجاشی بادشاہ کے پاس حبشہ پہنچا دیا۔ وہاں اتفاقاً ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے ہو گئی۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور یہاں رہنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم بھی ہمارے ساتھ رہو، چنانچہ ہم بھی وہاں ان کے ساتھ مقیم ہو گئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے مدینہ طیبہ آئے۔ ہماری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے ہمارا حصہ مقرر فرمایا یا ہمیں اس میں سے کچھ عطا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو غنیمت سے کچھ نہ دیا جو فتح خیبر سے غائب تھا، صرف انہی لوگوں کو حصہ دیا جو آپ کے ساتھ تھے، مگر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سمیت ہم کشتی والوں کو مال غنیمت سے حصہ عطا فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3776
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَرَأَيْتَ اسْمَ الْأَنْصَارِ كُنْتُمْ تُسَمَّوْنَ بِهِ أَمْ سَمَّاكُمُ اللَّهُ، قَالَ:" بَلْ سَمَّانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" , كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَنَسٍ فَيُحَدِّثُنَا بِمَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ وَمَشَاهِدِهِمْ وَيُقْبِلُ عَلَيَّ أَوْ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ، فَيَقُولُ: فَعَلَ قَوْمُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا , كَذَا وَكَذَا.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے غیلان بن جریر نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا بتلائیے (انصار) اپنا نام آپ لوگوں نے خود رکھ لیا تھا یا آپ لوگوں کا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہمارا یہ نام اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ غیلان کی روایت ہے کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ہم سے انصار کی فضیلتیں اور غزوات میں ان کے مجاہدانہ واقعات بیان کیا کرتے پھر میری طرف یا قبیلہ ازد کے ایک شخص کی طرف متوجہ ہو کر کہتے: تمہاری قوم (انصار) نے فلاں دن فلاں دن فلاں فلاں کام انجام دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3776]
غیلان بن جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ مجھے انصار کے نام کے متعلق بتائیں کہ یہ نام تم نے ازخود رکھا ہے یا اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ نام رکھا ہے؟ غیلان کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے تو وہ ہمیں انصار کے مناقب اور ان کے کارنامے سناتے، وہ میری طرف یا قبیلہ ازد کے کسی شخص کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: تمہاری قوم نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں کارنامہ سر انجام دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3776]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا , فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكُمْ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کی اطلاع ملی تو ہم یمن میں تھے۔ پھر ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن اتفاق سے ہوا نے ہماری کشتی کا رخ نجاشی کے ملک حبشہ کی طرف کر دیا۔ ہماری ملاقات وہاں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی (جو ہجرت کر کے وہاں موجود تھے) ہم انہیں کے ساتھ وہاں ٹھہرے رہے، پھر مدینہ کا رخ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اے کشتی والو! دو ہجرتیں کی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3876]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم یمن میں تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہمیں معلوم ہوا کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ آ گئے ہیں۔ ہم کشتی میں سوار ہوئے تو وہ ہمیں حبشہ لے گئی۔ وہاں ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو پایا تو ان کے ساتھ اقامت اختیار کر لی۔ پھر ہم مدینہ طیبہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملے جب آپ نے خیبر فتح کر لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے کشتی والو! تمہارے لیے دو ہجرتیں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4230
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَنَا مَخْرَجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ، فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمْ، أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ، إِمَّا قَالَ: بِضْعٌ، وَإِمَّا قَالَ: فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ، أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، فَرَكِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ، فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّى قَدِمْنَا جَمِيعًا، فَوَافَقْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، وَكَانَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، وَدَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَى حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً، وَقَدْ كَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَأَسْمَاءُ عِنْدَهَا , فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَى أَسْمَاءَ: مَنْ هَذِهِ؟ قَالَتْ: أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ , قَالَ عُمَرُ: الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: نَعَمْ، قَالَ: سَبَقْنَاكُمْ بِالْهِجْرَةِ، فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ، فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ: كَلَّا وَاللَّهِ كُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ، وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ، وَكُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ بِالْحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ، وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ، وَاللَّهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ.
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے متعلق خبر ملی تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی نیت سے نکل پڑے۔ میں اور میرے دو بھائی ‘ میں دونوں سے چھوٹا تھا۔ میرے ایک بھائی کا نام ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھا اور دوسرے کا ابو رہم۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اوپر پچاس یا انہوں نے یوں بیان کیا کہ تریپن (53) یا باون (52) میری قوم کے لوگ ساتھ تھے۔ ہم کشتی پر سوار ہوئے لیکن ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کے ملک حبشہ میں لا ڈالا۔ وہاں ہماری ملاقات جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ‘ جو پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے وہاں پہنچ چکے تھے۔ ہم نے وہاں انہیں کے ساتھ قیام کیا ‘ پھر ہم سب مدینہ ساتھ روانہ ہوئے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت پہنچے جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ کچھ لوگ ہم کشتی والوں سے کہنے لگے کہ ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا جو ہمارے ساتھ مدینہ آئی تھیں ‘ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ ان سے ملاقات کے لیے وہ بھی نجاشی کے ملک میں ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہجرت کر کے چلی گئی تھیں۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ اس وقت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا وہیں تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اسماء بنت عمیس۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا اچھا وہی جو حبشہ سے بحری سفر کر کے آئی ہیں۔۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ہم تم لوگوں سے ہجرت میں آگے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تمہارے مقابلہ میں زیادہ قریب ہیں۔ اسماء رضی اللہ عنہا اس پر بہت غصہ ہو گئیں اور کہا ہرگز نہیں: اللہ کی قسم! تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہو ‘ تم میں جو بھوکے ہوتے تھے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھلاتے تھے اور جو ناواقف ہوتے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت و موعظت کیا کرتے تھے۔ لیکن ہم بہت دور حبشہ میں غیروں اور دشمنوں کے ملک میں رہتے تھے ‘ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کے راستے ہی میں تو کیا اور اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی جب تک تمہاری بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ کہہ لوں۔ ہمیں اذیت دی جاتی تھی ‘ دھمکایا ڈرایا جاتا تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کروں گی اور آپ سے اس کے متعلق پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی ‘ نہ کج روی اختیار کروں گی اور نہ کسی (خلاف واقعہ بات کا) اضافہ کروں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4230]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ یمن میں تھے جب ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی (مکہ سے) روانگی کی اطلاع ملی۔ ہم بھی ہجرت کر کے آپ کی طرف چل پڑے۔ ایک میں اور دو میرے بھائی۔ میں سب سے چھوٹا تھا۔ بھائیوں میں سے ایک کا نام ابو بردہ اور دوسرے کا نام ابو رہم تھا۔ انہوں نے کہا: ہمارے ساتھ ہماری قوم کے پچاس سے کچھ زیادہ یا انہوں نے کہا: تریپن (53) یا باون (52) افراد اور بھی تھے۔ ہم سب کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نے ہمیں نجاشی کی سرزمین حبشہ میں جا اتارا۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور ہم نے ان کے پاس ہی قیام کیا۔ پھر ہم سب اکٹھے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی جب آپ خیبر فتح کر چکے تھے۔ دوسرے لوگ ہم اہل سفینہ سے کہنے لگے کہ ہم ہجرت کے اعتبار سے تم پر سبقت رکھتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ہمارے ساتھ آئی تھیں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کے لیے گئیں جبکہ اسماء رضی اللہ عنہا نے بھی نجاشی کی طرف جماعتِ مہاجرین کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو اس وقت حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی ان کے ہاں موجود تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہی حبشہ سے ہجرت کر کے آنے والی؟ سمندری راستے سے آنے والی؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں، وہی ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے، اس بنا پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔ یہ بات سن کر حضرت اسماء رضی اللہ عنہا غصے میں آ گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تم میں سے اگر کوئی بھوکا ہوتا تو آپ اسے کھانا کھلاتے اور تمہارے جاہلوں کو نصیحت فرماتے تھے۔ لیکن ہم ایسی جگہ میں یا سرزمین حبشہ کے ایسے ایسے علاقے میں رہتے تھے جو نہ صرف دور تھا بلکہ دینِ اسلام سے وہاں نفرت تھی۔ یہ سب کچھ ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر برداشت کیا تھا۔ اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ تو کھانا کھاؤں گی اور نہ کچھ پیوں گی جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر نہ کر لوں جو آپ نے کہی ہیں۔ وہاں ہمیں ایذا دی جاتی تھی اور ہم خوف و ہراس میں مبتلا رہتے تھے۔ میں یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گی اور آپ سے دریافت کروں گی۔ اللہ کی قسم! میں نہ جھوٹ بولوں گی اور نہ غلط کہوں گی اور نہ اپنی طرف سے کوئی بات بڑھاؤں گی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4230]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4231
فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ عُمَرَ قَالَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" فَمَا قُلْتِ لَهُ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، قَالَ:" لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ"، قَالَتْ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، مَا مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي.
‏‏‏‏ چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! عمر رضی اللہ عنہ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ پھر تم نے انہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے انہیں یہ یہ جواب دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تم سے زیادہ مجھ سے قریب نہیں ہیں۔ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو صرف ایک ہجرت حاصل ہوئی اور تم کشتی والوں نے دو ہجرتوں کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس واقعہ کے بعد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھنے لگے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر اور کوئی چیز نہیں تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4231]
(انہوں نے مزید کہا:) پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اللہ کے نبی! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اور یہ باتیں کی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے عمر کو کیا جواب دیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ اور یہ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ مجھ پر حق نہیں رکھتے۔ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی ایک ہجرت ہے اور اے کشتی والو! تمہاری دو ہجرتیں ہوئی ہیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اس واقعے کے بعد میں نے دیکھا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور تمام کشتی والے میرے پاس گروہ در گروہ آنے لگے اور مجھ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کرتے۔ ان کے لیے دنیا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے متعلق اس (حوصلہ افزا) ارشاد سے زیادہ خوش کن اور باعث فخر کوئی اور چیز نہیں تھی۔ حضرت ابوبردہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بلاشبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مجھ سے اس حدیث کو بار بار سنتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4231]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4233
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ:" قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَقَسَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرَنَا".
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم نے حفص بن غیاث سے سنا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کی فتح کے بعد ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال غنیمت میں) ہمارا بھی حصہ لگایا۔ آپ نے ہمارے سوا کسی بھی ایسے شخص کا حصہ مال غنیمت میں نہیں لگایا جو فتح کے وقت (اسلامی لشکر کے ساتھ) موجود نہ رہا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4233]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فتح خیبر کے بعد حاضر ہوئے، آپ نے ہمارے لیے مالِ غنیمت میں حصہ مقرر کیا اور ہمارے علاوہ جو شخص فتح خیبر میں حاضر نہیں ہوا اسے حصہ نہیں دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4233]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4238
وَيُذْكَرُ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ مِنْ الْمَدِينَةِ قِبَلَ نَجْدٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَدِمَ أَبَانُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحَهَا، وَإِنَّ حُزْمَ خَيْلِهِمْ لَلِيفٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَقْسِمْ لَهُمْ، قَالَ أَبَانُ: وَأَنْتَ بِهَذَا يَا وَبْرُ تَحَدَّرَ مِنْ رَأْسِ ضَأْنٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَانُ اجْلِسْ فَلَمْ يَقْسِمْ لَهُمْ".
اور زبیدی سے روایت ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عنبسہ بن سعید نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دے رہے تھے کہ ابان رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سریہ پر مدینہ سے نجد کی طرف بھیجا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ خیبر فتح ہو چکا تھا۔ ان لوگوں کے گھوڑے تنگ چھال ہی کے تھے ‘ (یعنی انہوں نے مہم میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی)۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غنیمت میں ان کا حصہ نہ لگایئے۔ اس پر ابان رضی اللہ عنہ بولے اے وبر! تیری حیثیت تو صرف یہ کہ قدوم الضان کی چوٹی سے اتر آیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابان! بیٹھ جا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا حصہ نہیں لگایا۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4238]
عنبسہ بن سعید ہی سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید رضی اللہ عنہ کو کسی مہم پر مدینہ طیبہ سے نجد کی طرف بھیجا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ابان رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر میں آئے جب آپ اسے فتح کر چکے تھے۔ مہم سے واپس آنے والوں کے گھوڑوں کی پٹیاں (ڈوریں) چھال کی تھیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! مال غنیمت میں ان کا حصہ نہ لگائیے۔ حضرت ابان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے «وَبْرُ» ! تیری حیثیت تو صرف یہ ہے کہ جنگلی بیری کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے۔ یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابان! تم بیٹھ جاؤ۔ آپ نے مال غنیمت سے انہیں کچھ نہ دیا۔ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: «ضَالٌّ» جنگلی بیری کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فرض الخمس/حدیث: 4238]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں