🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب إثم من عاهد ثم غدر:
باب: معاہدہ کرنے کے بعد دغا بازی کرنے والے پر گناہ؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَائِرٍ إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالَى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم تیمی نے، انہیں ان کے باپ (یزید بن شریک تیمی) نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن مجید لکھا اور جو کچھ اس ورق میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مدینہ عائر پہاڑی اور فلاں (کدیٰ) پہاڑی کے درمیان تک حرم ہے۔ پس جس نے یہاں (دین میں) کوئی نئی چیز داخل کی یا کسی ایسے شخص کو اس کے حدود میں پناہ دی تو اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی۔ نہ اس کا کوئی فرض قبول اور نہ نفل قبول ہو گا۔ اور مسلمان پناہ دینے میں سب برابر ہیں۔ معمولی سے معمولی مسلمان (عورت یا غلام) کسی کافر کو پناہ دے سکتے ہیں۔ اور جو کوئی کسی مسلمان کا کیا ہوا عہد توڑ ڈالے اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! اور جس غلام یا لونڈی نے اپنے آقا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا مالک بنا لیا، تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور انسان سب کی لعنت ہو گی، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول ہو گی اور نہ نفل! [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3179]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بس یہی قرآن لکھا اور جو کچھ اس صحیفے میں درج ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ جبل عائر سے فلاں پہاڑی تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کسی بدعت کو رواج دیا یا کسی بدعتی کو جگہ دی تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی پھٹکار ہے۔ اس کی نہ تو کوئی فرض اور نہ نفل عبادت قبول ہوگی۔ تمام مسلمان کسی کو پناہ دینے میں برابر ہیں، اس کے لیے کوئی کم تر آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے، لہذا جس شخص نے بھی کسی مسلمان سے بد عہدی کی اس پر اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی۔ اس کی کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور جس نے اپنے آقاؤں کے بغیر کسی دوسرے کو اپنا آقا ظاہر کیا اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کی بھی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہوگی۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ:" هَلْ عِنْدَكُمْ كِتَابٌ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كِتَابُ اللَّهِ، أَوْ فَهْمٌ أُعْطِيَهُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ أَوْ مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، قَالَ: قُلْتُ، فَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوجحیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 111]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہاں ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور وہ فہم ہے جو ایک مسلمان مرد کو دی جاتی ہے یا جو کچھ اس صحیفے میں موجود ہے۔ میں نے پوچھا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دیت کے احکام، قیدی کو چھڑانے کا بیان اور یہ کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 111]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں