🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب من أحب أن لا يسب نسبه:
باب: جو شخص یہ چاہے کہ اس کے باپ دادا کو کوئی برا نہ کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3531
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ:" كَيْفَ بِنَسَبِي؟، فَقَالَ: حَسَّانُ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ، وَعَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین (قریش) کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں۔ اس پر حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو (شعر میں) اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور (ہشام نے) اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا، عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں میں حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا، انہیں برا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3531]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: میرے نسب کا کیا کرو گے؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جس طرح آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: انہیں برا بھلا مت کہو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3531]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4145
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ , قَالَ:" كَيْفَ بِنَسَبِي؟" قَالَ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ , سَمِعْتُ هِشَامًا , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4145]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا: ان کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی مذمت کرنے کے متعلق اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نسب کا کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کی: میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسا کہ گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ دوسری سند کے ساتھ حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ وہ واقعہ افک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق بہت کچھ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 4145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَكَيْفَ بِنَسَبِي"، فَقَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ:" لَا تَسُبُّهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے (پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا)۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6150]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مشرکین اور میرا خاندان تو ایک ہے) پھر میرے نسب کا کیا حال ہوگا؟ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو ان سے اس طرح نکالوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔ ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سب و شتم کرنے لگا تو انہوں نے فرمایا: حسان کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 6150]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں