🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب بنيان الكعبة:
باب: قریش نے جو کعبہ کی مرمت کی تھی اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا بُنِيَتْ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِيكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" إِزَارِي إِزَارِي" , فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ.
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لیں اس طرح پتھر کی (خراش لگنے سے) بچ جائیں گے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا کیا) تو آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی نظر آسمان پر گڑ گئی جب ہوش ہوا تو آپ نے چچا سے فرمایا کہ میرا تہبند لائیں پھر انہوں نے آپ کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3829]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں جو آپ کو پتھروں کی رگڑ سے محفوظ رکھے گا۔ چنانچہ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا) تو زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں۔ پھر جب ہوش آیا تو (اپنے چچا عباس سے) فرمایا: میرا تہبند دو، میرا تہبند دو چنانچہ انہوں نے وہ تہبند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3829]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 364
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ، قَالَ: فَحَلَّهُ، فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نبوت سے پہلے) کعبہ کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے۔ اس وقت آپ تہبند باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس نے کہا کہ بھتیجے کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے (تاکہ تم پر آسانی ہو جائے) جابر نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا۔ اسی وقت غشی کھا کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 364]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ہمراہ تعمیرِ کعبہ کے لیے پتھر اٹھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تہ بند باندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے! اگر تم اپنا تہ بند اتار کر اسے اپنے کندھوں پر پتھر کے نیچے رکھ لو (تو تمہارے لیے آسانی ہو گی)۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند اتار کر اپنے کندھوں پر رکھ لیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1582
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى رَقَبَتِكَ، فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: أَرِنِي إِزَارِي، فَشَدَّهُ عَلَيْهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ (زمانہ جاہلیت میں) جب کعبہ کی تعمیر ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عباس رضی اللہ عنہ بھی پتھر اٹھا کر لا رہے تھے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنا تہبند اتار کر کاندھے پر ڈال لو (تاکہ پتھر اٹھانے میں تکلیف نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ننگے ہوتے ہی بیہوش ہو کر آپ زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں۔ آپ کہنے لگے مجھے میرا تہبند دے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مضبوط باندھ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 1582]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں۔ جب آپ نے ایسا کیا تو بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا تہبند مجھے دے دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند اپنے اوپر باندھ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 1582]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں