صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب إسلام عمر بن الخطاب رضي الله عنه:
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ۔
حدیث نمبر: 3867
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ لِلْقَوْمِ:" لَوْ رَأَيْتُنِي مُوثِقِي عُمَرُ عَلَى الْإِسْلَامِ أَنَا وَأُخْتُهُ وَمَا أَسْلَمَ وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا انْقَضَّ لِمَا صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اور اپنی بہن کو اس لیے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے اور آج تم نے جو کچھ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3867]
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے میں نے خود کو اور ان کی ہمشیرہ کو دیکھا کہ وہ ہمیں اسلام لانے کی پاداش میں باندھے ہوئے تھے اور جو کچھ تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے، اگر احد پہاڑ اس کے باعث ریزہ ریزہ ہو جائے تو وہ اسی کے لائق ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3867]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، يَقُولُ:" وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ لَمُوثِقِي عَلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عُمَرُ وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا ارْفَضَّ لِلَّذِي صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام کیوں قبول کیا لیکن تم لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا کرنا ہی چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3862]
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے مسجد کوفہ میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے قبل مجھے اسلام لانے کی پاداش میں باندھ رکھا تھا، لیکن تم لوگوں نے جو سلوک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا ہے، اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اس کے لائق ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة