🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب غزوة أحد:
باب: غزوہ احد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4050
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ , وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةً تَقُولُ: نُقَاتِلُهُمْ , وَفِرْقَةً تَقُولُ: لَا نُقَاتِلُهُمْ , فَنَزَلَتْ: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا سورة النساء آية 88 وَقَالَ: إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا، وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے (منافقین، بہانہ بنا کر) واپس لوٹ گئے۔ پھر صحابہ کی ان واپس ہونے والے منافقین کے بارے میں دو رائیں ہو گئیں تھیں۔ ایک جماعت تو کہتی تھی ہمیں پہلے ان سے جنگ کرنی چاہیے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ان سے ہمیں جنگ نہ کرنی چاہیے۔ اس پر آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا‏» پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہاری دو جماعتیں ہو گئیں ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالی کی وجہ سے انہیں کفر کی طرف لوٹا دیا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ طیبہ ہے، سرکشوں کو یہ اس طرح اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی چاندی کے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4050]
حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ احد کے لیے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے واپس لوٹ آئے۔ (ان واپس آنے والوں کے متعلق) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دو گروہ بن گئے: ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم ان سے جنگ کریں گے اور دوسرا گروہ کہتا کہ ہم ان سے نہیں لڑیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [سورة النساء: 88] تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقین کے بارے میں تم دو گروہ بن گئے ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بدعملی کی وجہ سے انہیں سابقہ حالت (کفر) کی طرف لوٹا دیا ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ، طیبہ ہے جو گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جیسے آگ چاندی کا میل کچیل دور کر دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4050]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1884
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: نَقْتُلُهُمْ، وَقَالَتْ فِرْقَةٌ: لَا نَقْتُلُهُمْ، فَنَزَلَتْ: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَنْفِي الرِّجَالَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے) پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی «فما لكم في المنافقين فئتين‏» اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ (برے) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1884]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے لیے مدینہ طیبہ سے نکلے، اس دوران آپ کے بعض ساتھی واپس چلے گئے تو کچھ کہنے لگے: ہم انہیں قتل کر دیں گے اور اس کے برعکس چند لوگوں نے کہا: ہم انہیں قتل نہیں کریں گے۔ اس پر آیت کریمہ ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ﴾ [سورة النساء: 88] تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ بن گئے ہو نازل ہوئی، ان حالات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ طیبہ (منافق) آدمیوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ لوہے سے زنگار دور کرتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 1884]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں