صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب: {إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا والله وليهما وعلى الله فليتوكل المؤمنون} :
باب: جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایمانداروں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4064
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ لَهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ كَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , وَكَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ بِجَعْبَةٍ مِنَ النَّبْلِ , فَيَقُولُ: انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: وَيُشْرِفُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى الْقَوْمِ , فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ يُصِيبُكَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ , نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ , وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تُنْقِزَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ , ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو کر پسپا ہو گئے تو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے چمڑے کی ڈھال سے حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور کمان خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر تیر کا ترکش لیے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ کے لیے یہیں رکھتے جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دیکھنے کے لیے سر اٹھا کر جھانکتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، سر مبارک اوپر نہ اٹھایئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ادھر سے کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میری گردن آپ سے پہلے ہے اور میں نے دیکھا کہ جنگ میں عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں کہ ان کی پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں اور مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے دوڑ رہی ہیں اور اس کا پانی زخمی مسلمانوں کو پلا رہی ہیں پھر (جب اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے) تو واپس آتی ہیں اور مشک بھر کر پھر لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو پلاتی ہیں۔ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4064]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب غزوہ احد میں لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دیا تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال لے کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ڈھال بنے ہوئے تھے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ زبردست تیر انداز تھے، انہوں نے اس روز دو یا تین کمانیں توڑی تھیں۔ اس دوران میں جو آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے تیروں کا ترکش لے کر گزرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ”ان تیروں کو طلحہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس رکھ دو۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا کر کافروں کو دیکھتے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے: ”میرے باپ آپ پر قربان ہوں! آپ سر مبارک نہ اٹھائیں، مبادا کفار کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میرا سینہ آپ کے سینے کے آگے قربانی کے لیے موجود ہے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بایں حالت دیکھا کہ وہ کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں، میں ان کے پازیب دیکھ رہا تھا وہ اپنی پشتوں پر مشکیں بھر بھر کر لا رہی تھیں اور لوگوں کے منہ میں ڈال رہی تھیں۔ پھر واپس جاتیں اور مشکیں بھر کر لاتیں، پھر لوگوں کے منہ میں پانی انڈیل دیتیں۔ اس دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر پڑی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4064]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2880
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہا (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور (تیز چلنے کی وجہ سے) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کر لے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2880]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب احد کی جنگ ہوئی تو کچھ لوگ شکست خوردہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت ابی بکر اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں، میں ان کی پنڈلیوں کے پازیب دیکھ رہا تھا، وہ پانی کے مشکیزے بھر کر لاتیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں کا بیان ہے کہ وہ اپنی کمر پر پانی کے مشکیزے اٹھا کر لاتیں، پھر انہیں مجاہدین کے مونہوں میں ڈالتی تھیں، پھر واپس آتیں اور مشکیزے بھر کر لے جاتیں، پھر آ کر لوگوں کے مونہوں میں پانی ڈالتی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة