صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب غزوة بني المصطلق من خزاعة وهى غزوة المريسيع:
باب: غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع (بھی کہلاتا) ہے۔
حدیث نمبر: 4139
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ , فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا , وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ , وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي , فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي مُخْتَرِطٌ صَلْتًا , قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللَّهُ , فَشَامَهُ ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هَذَا" , قَالَ: وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار ٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو۔ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4139]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ نجد میں شریک ہوئے۔ جب آپ کو دوپہر کی گرمی نے پا لیا تو آپ اس وقت بہت خاردار درختوں کی وادی میں تھے، چنانچہ آپ نے ایک گھنے سایہ دار درخت کے نیچے سائے کے لیے قیام کیا اور اپنی تلوار درخت سے لٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آواز دی۔ ہم حاضر ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اعرابی (وہاں موجود ہے)؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جب میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اس دوران میں اس نے میری تلوار (مجھ پر) سونت لی۔ جب میں بیدار ہوا تو یہ میری ننگی تلوار سونتے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا، کہنے لگا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: «اللَّهُ» ”اللہ“۔ پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی اور بیٹھ گیا اور دیکھ لو یہ بیٹھا ہوا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4139]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2910
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ وَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا" فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي، فَقُلْتُ:" اللَّهُ ثَلَاثًا" وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سنان بن ابی سنان الدولی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کے اطراف میں ایک غزوہ میں شریک تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس ہوئے تو آپ کے ساتھ یہ بھی واپس ہوئے۔ راستے میں قیلولہ کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا اور صحابہ پوری وادی میں (درخت کے سائے کے لیے) پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔ ہم سب سو گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پکارنے کی آواز سنائی دی، دیکھا گیا تو ایک بدوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے غفلت میں میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور میں سویا ہوا تھا، جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! تین مرتبہ (میں نے اسی طرح کہا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے (پھر وہ خود متاثر ہو کر اسلام لایا)۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2910]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لیے روانہ ہوئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے تو یہ بھی آپ کے ہمراہ واپس لوٹے۔ راستے میں قیلولے کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں بکثرت خاردار (ببول کے) درخت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وادی میں پڑاؤ کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا اور اپنی تلوار اس درخت سے لٹکا دی۔ ہم لوگ وہاں گہری نیند سو گئے۔ اس دوران ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی کہ وہ ہمیں پکار رہے ہیں۔ دیکھا تو ایک دیہاتی آپ کے پاس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سویا ہوا تھا اس نے اچانک مجھ پر میری تلوار سونت لی۔ میں جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔“ اس نے مجھ سے کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے تین مرتبہ کہا: «اللهُ» ”اللہ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی اور وہ بیٹھ گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2910]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ وَأَبُو سَلَمَةَ ، أن جابرا أخبره، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ، قُلْتُ: اللَّهُ، فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے سنان بن ابی سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات کو جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں سنان بن ابی سنان الدولی نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ایک ایسے جنگل میں جہاں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ قیلولہ کا وقت ہو گیا، تمام صحابہ سائے کی تلاش میں (پوری وادی میں متفرق درختوں کے نیچے) پھیل گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار (درخت کے تنے سے) لٹکا دی تھی اور سو گئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اجنبی موجود تھا۔ اس اجنبی نے کہا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور جب صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور مجھ سے کہنے لگا تھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکے گا؟ میں نے کہا اللہ (اس پر وہ شخص خود ہی دہشت زدہ ہو گیا) اور تلوار نیام میں کر لی، اب یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2913]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جہاد میں تھے۔ واپسی کے وقت ایک وادی میں قیلولے کا وقت ہو گیا جس میں بہت کانٹے دار درخت تھے۔ لوگ سایہ حاصل کرنے کے لیے درختوں کے جھنڈ میں پھیل گئے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے محو استراحت ہوئے اور اس کے ساتھ اپنی تلوار لٹکا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوئے تو ایک شخص آپ کے پاس تھا جس کا آپ کو علم نہ ہو سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے میری تلوار نیام سے نکالی اور کہنے لگا: اب تجھے (مجھ سے) کون بچائے گا؟ میں نے کہا: «اللَّهُ» ”اللہ“، تو اس نے تلوار پھینک دی۔ اب وہ یہ بیٹھا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہ دی۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 2913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4137
وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ فَصَلَّى الْخَوْفَ". وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ صَلَاةَ الْخَوْفِ" , وَإِنَّمَا جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامَ خَيْبَرَ.
اور ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف غزوہ نجد میں پڑھی تھی۔ یہ یاد رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (سب سے پہلے) غزوہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4137]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ ”ہم مقام نخل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ آپ نے صلاۃِ خوف پڑھائی۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ نجد میں صلاۃِ خوف پڑھی۔“ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان ایام میں آئے تھے جب آپ نے خیبر کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4137]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة