صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب غزوة ذات السلاسل:
باب: غزوہ ذات السلاسل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4358
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" عُمَرُ"، فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ.
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (غزوہ سے واپس آ کر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4358]
حضرت ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر بنا کر روانہ کیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (واپسی پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: ”آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔“ میں نے پوچھا: ”مردوں میں سے کون ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد گرامی (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔“ میں نے پوچھا کہ ”اس کے بعد کون؟“ تو آپ نے فرمایا: ”عمر (رضی اللہ عنہ)۔“ اس طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے آخر میں کر دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3662
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ: خَالِدٌ الْحَذَّاءُ حَدَّثَنَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ، فَقَالَ:" أَبُوهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ، قَالَ:" ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ" , فَعَدَّ رِجَالًا.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے، کہا ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ سے میں نے پوچھا، اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب سے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3662]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ ذات السلاسل میں امیر بنا کر بھیجا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں (واپس) آپ کے پاس آیا تو میں نے عرض کیا: ”سب لوگوں میں کون شخص آپ کو زیادہ محبوب ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”عائشہ رضی اللہ عنہا۔“ میں نے عرض کیا: ”مردوں میں سے کون؟“ آپ نے فرمایا: ”ان کے والد گرامی۔“ میں نے پوچھا: ”پھر کون؟“ آپ نے فرمایا: ”پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔“ اسی طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3662]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة