صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ الشِّغَارِ:
باب: نکاح شغار کا بیان۔
حدیث نمبر: 5112
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الشِّغَارِ"، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی لڑکی یا بہن کا نکاح اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص اپنی (بیٹی یا بہن) اس کو بیاہ دے اور کچھ مہر نہ ٹھہرے۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5112]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الشِّغَارِ» ”شغار“ سے منع فرمایا: ”اور شغار یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا نکاح (کسی کے ساتھ) اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ دوسرا شخص بھی اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرے گا اور ان دونوں کا کوئی حق مہر مقرر نہ ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6960
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ"، قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَا الشِّغَارُ؟، قَالَ: يَنْكِحُ ابْنَةَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ ابْنَتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ، وَيَنْكِحُ أُخْتَ الرَّجُلِ وَيُنْكِحُهُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنِ احْتَالَ حَتَّى تَزَوَّجَ عَلَى الشِّغَارِ فَهُوَ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ، وَقَالَ فِي الْمُتْعَةِ: النِّكَاحُ فَاسِدٌ وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْمُتْعَةُ وَالشِّغَارُ جَائِزٌ، وَالشَّرْطُ بَاطِلٌ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا۔ میں نے نافع سے پوچھا شغار کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ کہ کوئی شخص بغیر مہر کسی کی لڑکی سے نکاح کرتا ہے یا اس سے بغیر مہر کے اپنی لڑکی کا نکاح کرتا ہے پس اس کے سوا کوئی مہر مقرر نہ ہو اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی نے حیلہ کر کے نکاح شغار کر لیا تو نکاح کا عقد درست ہو گا اور شرط لغو ہو گی (اور ہر ایک کو مہر مثل عورت کا ادا کرنا ہو گا) اور ہاں بعض لوگوں نے متعہ میں کہا ہے کہ وہاں نکاح بھی فاسد ہے اور شرط بھی باطل ہے اور بعض حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ متعہ اور شغار دونوں جائز ہوں گے اور شرط باطل ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6960]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الشِّغَارِ» (شغار) سے منع فرمایا ہے“، (راوی حدیث عبید اللہ نے کہا) میں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے شغار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”کوئی آدمی دوسرے کی بیٹی سے نکاح کرتا ہے اور وہ اس کے نکاح میں اپنی بیٹی دیتا ہے، اس (تبادلے) کے علاوہ اور کوئی حق مہر نہیں ہوتا۔ اور مہر کے بغیر کسی آدمی کی بہن سے نکاح کرے اور وہ اس کو اپنی بہن کا نکاح حق مہر کے بغیر کر دے۔“ بعض لوگوں نے کہا: ”اگر کسی نے حیلہ کر کے نکاح شغار کر لیا تو عقد نکاح درست البتہ شرط باطل ہے۔“ پھر نکاح متعہ کے متعلق کہا کہ ”یہ نکاح بھی فاسد ہے اور شرط بھی باطل ہے“، بعض حضرات کا خیال ہے کہ ”نکاح متعہ اور نکاح شغار دونوں جائز ہیں البتہ شرط باطل ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 6960]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة