صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب: {وبعولتهن أحق بردهن} :
باب: اور اللہ کا سورۃ البقرہ میں یہ فرمانا کہ عدت کی اندر عورتوں کے خاندان کے زیادہ حقدار ہیں یعنی رجعت کر کے۔
حدیث نمبر: 5330
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ:" زَوَّجَ مَعْقِلٌ أُخْتَهُ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً".
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا، پھر (ان کے شوہر نے) انہیں ایک طلاق دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5330]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کا نکاح کسی سے کر دیا تو اس نے اسے طلاق دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 5330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4529
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ: كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيَّ , وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: عَنْ يُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ , فَنَزَلَتْ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ (دوسری سند) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ (تیسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 4529]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میری ایک بہن تھی، اس سے نکاح کے متعلق مجھے پیغام بھیجا گیا۔“ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہو گئی۔ پھر اس کے شوہر نے پیغام بھیجا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”تم ان مطلقہ عورتوں کو مت روکو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے نکاح کریں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الطلاق/حدیث: 4529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة