🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب صيد القوس:
باب: تیرکمان سے شکار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ:" قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ فَمَا يَصْلُحُ لِي؟ قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا، وَكُلُوا فِيهَا وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ".
ہم سے عبداللہ بن یزید مقبری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ربیعہ بن یزید دمشقی نے خبر دی، انہیں ابوادریس عائذ اللہ خولانی نے، انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کے گاؤں میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتن میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے تو اگر تمہیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے تو اس میں نہ کھاؤ لیکن تمہیں کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو تو (اس کا شکار) کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور شکار خود ذبح کیا ہو تو اسے کھا سکتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5478]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے نبی! ہم اہل کتاب کے گاؤں میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بکثرت ہوتا ہے، وہاں میں اپنے تیر کمان سے شکار کرتا ہوں اور میں اپنے کتے سے جو بھی سکھایا ہوا ہوتا ہے، ان میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تو نے اہل کتاب کے برتنوں کا ذکر کیا ہے؟ تو اگر ان کے (برتنوں کے) علاوہ تمہیں دوسرے برتن دستیاب ہوں تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ پیو، اگر تمہیں کوئی دوسرا برتن نہ ملے تو ان کے برتن دھو کر ان میں کھا پی سکتے ہو۔ اور جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو، اگر تم نے تیر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو اس شکار کو کھا سکتے ہو، اور جو شکار تم نے غیر کے سکھائے کتے سے کیا ہو، اگر تمہیں اسے ذبح کرنے کا موقع ملے تو اسے ذبح کر کے کھا سکتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5488
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ. ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَالَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا، فَأَخْبِرْنِي مَا الَّذِي يَحِلُّ لَنَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الْكِتَابِ تَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ مُعَلَّمًا فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ".
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا، مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہ میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی سے سنا، کہا کہ مجھے ابوادریس عائذ اللہ نے خبر دی، کہا کہ میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتن میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں، جہاں میں اپنے تیر سے شکار کرتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے کتے سے۔ تو اس میں سے کیا چیز ہمارے لیے جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو اور ان کے برتن میں بھی کھاتے ہو تو اگر تمہیں ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن مل جائیں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ لیکن ان کے برتنوں کے سوا دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں دھو کر پھر ان میں کھاؤ اور تم نے شکار کی سر زمین کا ذکر کیا ہے تو جو شکار تم اپنے تیر سے مارو اور تیر چلاتے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے کتے سے کیا ہو اور اسے ذبح بھی خود ہی کیا ہو تو اسے بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5488]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے ہیں اور وہاں شکار بہت ہوتا ہے، میں اپنے تیر کمان اور سدھائے ہوئے کتوں سے شکار کرتا ہوں اور اس کتے کو بھی شکار میں استعمال کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں ہوتا، آپ میری رہنمائی کریں کہ اس میں میرے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہو اور ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے ہو، تو اگر تمہیں ان کے علاوہ دوسرے برتن دستیاب ہوں تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ۔ اگر ان کے علاوہ دوسرے برتن نہ ملیں تو انہیں خوب دھو کر اپنے استعمال میں لا سکتے ہو۔ اور تم نے جو شکار کی سرزمین کا ذکر کیا ہے تو جو شکار تم اپنے تیر سے مارو اور تیر چلاتے وقت اگر تم نے اللہ کا نام لیا تھا تو اس شکار کو کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور چھوڑتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا تھا وہ شکار کھاؤ اور جو شکار بغیر سدھائے کتے سے کیا ہو، اگر اس شکار کو خود ذبح کر سکو تو اسے بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5488]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5495
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ"، قَالَ سُفْيَانُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَإِسْرَائِيلُ: عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ابویعفور نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات یا چھ غزووں میں شریک ہوئے، ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے۔ سفیان، ابوعوانہ اور اسرائیل نے ابویعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی نے، سات غزوہ کے لفظ روایت کئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5495]
حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر چھ یا سات جنگیں لڑیں، ہم آپ کے ہمراہ ٹڈی کھایا کرتے تھے۔ سفیان، ابو عوانہ اور اسرائیل نے ابو یعفور سے بیان کیا اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے سات غزوات کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5496
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكَ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَلَا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدُوا بُدًّا فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْهُ".
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ربیعہ بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں اور ہم شکار کی زمین میں رہتے ہیں اور میں اپنے تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے اور بےسدھائے کتے سے بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو یہ کہا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھایا کرو۔ البتہ اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو اور جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو جو شکار تم اپنے تیر کمان سے کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو تو اسے کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھاؤ اور جو شکار تم نے اپنے بلا سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو اسے کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5496]
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے ہیں، نیز وہاں شکار بکثرت پایا جاتا ہے، میں وہاں اپنے تیر کمان سے شکار کرتا ہوں، نیز اپنے سدھائے ہوئے کتوں اور بغیر سدھائے ہوئے کتوں کو شکار کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ ذکر کیا ہے کہ تم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہو تو ان کے برتنوں میں کھایا پیا نہ کرو، ہاں! اگر ضرورت ہو اور کھانا ہی پڑ جائے تو انہیں خوب دھو لیا کرو۔ اور جو تم نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو تو تم نے «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کا نام پڑھ کر تیر کمان سے جو شکار کیا اسے کھا سکتے ہو۔ اور جس پر اللہ کا نام لیا ہو وہ بھی کھا لیا کرو، اور جو شکار تم نے بغیر سدھائے ہوئے اپنے کتے سے کیا، اگر تم اسے ذبح کر سکو تو اسے بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5496]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں