صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب ذبيحة المرأة والأمة:
باب: (مسلمان) عورت اور لونڈی کا ذبیحہ بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5505
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ مِنْهَا، فَأَدْرَكَتْهَا فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوهَا".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے کہ معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ نے انہیں خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس نے اسے مرنے سے پہلے پتھر سے ذبح کر دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5505]
حضرت معاذ بن سعد یا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی، ریوڑ میں سے ایک بکری مرنے کے قریب ہوئی تو اس نے (مرنے سے پہلے) اسے پتھر سے ذبح کر دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2304
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّهُ كَانَتْ لَهُمْ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أُرْسِلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَسْأَلُهُ، وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ أَوْ أَرْسَلَ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أَمَةٌ، وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ، تَابَعَهُ عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے معتمر سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبیداللہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے والد سے بیان کرتے تھے کہ ان کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا۔ جو سلع پہاڑی پر چرنے جاتا تھا (انہوں نے بیان کیا کہ) ہماری ایک باندی نے ہمارے ہی ریوڑ کی ایک بکری کو (جب کہ وہ چر رہی تھی) دیکھا کہ مرنے کے قریب ہے۔ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے اس بکری کو ذبح کر دیا۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں میں پوچھ نہ لوں اس کا گوشت نہ کھانا۔ یا (یوں کہا کہ) جب تک میں کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہ بھیجوں، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا، یا کسی کو (پوچھنے کے لیے) بھیجا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھانے کے لیے حکم فرمایا۔ عبیداللہ نے کہا کہ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ باندی (عورت) ہونے کے باوجود اس نے ذبح کر دیا۔ اس روایت کی متابعت عبدہ نے عبیداللہ کے واسطہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2304]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا جو سلع پہاڑ پر چرتی تھیں، ہماری لونڈی نے ایک بکری کو ذبح کر دیا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے کھاؤ نہیں تاآنکہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ لوں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی آدمی کو بھیجوں جو آپ سے اس کے متعلق دریافت کرے۔ چنانچہ انہوں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یا کسی آدمی کو بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”وہ اسے کھا سکتے ہیں۔“ (راویِ حدیث) عبید اللہ نے کہا: مجھے حیرت ہوئی کہ وہ لونڈی تھی اور اس نے بکری ذبح کر دی۔ (اس روایت کو) عبید اللہ سے بیان کرنے میں عبدہ نے (سلیمان بن معتمر کی) متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ الْقَوْمِ، فَعَجِلُوا، وَذَبَحُوا، وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا". فَقَالَ جَدِّي: إِنَّا نَرْجُو أَوْ نَخَافُ الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ.
ہم سے علی بن حکم انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے، ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کے دادا (رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام ذوالحلیفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ لوگوں کو بھوک لگی۔ ادھر (غنیمت میں) اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے پیچھے کے لوگوں میں تھے۔ لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم سے پہلے ہی) ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تقسیم کیا اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ ایک اونٹ اس میں سے بھاگ گیا تو لوگ اسے پکڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن اس نے سب کو تھکا دیا۔ قوم کے پاس گھوڑے کم تھے۔ ایک صحابی تیر لے کر اونٹ کی طرف جھپٹے۔ اللہ نے اس کو ٹھہرا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح سرکشی ہوتی ہے۔ اس لیے ان جانوروں میں سے بھی اگر کوئی تمہیں عاجز کر دے تو اس کے ساتھ تم ایسا ہی معاملہ کیا کرو۔ پھر میرے دادا نے عرض کیا کہ کل دشمن کے حملہ کا خوف ہے، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں (تلواروں سے ذبح کریں تو ان کے خراب ہونے کا ڈر ہے جب کہ جنگ سامنے ہے) کیا ہم بانس کے کھپچی سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو چیز بھی خون بہا دے اور ذبیحہ پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2488]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام ذوالحلیفہ میں تھے۔ اس دوران میں لوگوں کو بھوک نے ستایا تو انہیں کچھ اونٹ اور بکریاں ہاتھ لگے۔ راوی کہتا ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے پیچھے تھے۔ اس لیے لوگوں نے جلدی کی اور جانوروں کو ذبح کر ڈالا اور ہانڈیاں چڑھا دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (جب تشریف لائے تو آپ) نے حکم دیا کہ ان ہانڈیوں کو الٹ دیا جائے، چنانچہ انہیں الٹ دیا گیا۔ پھر آپ نے تقسیم فرمائی تو دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا۔ اتفاقاً ایک اونٹ بھاگ نکلا تو لوگ اس کے پیچھے دوڑے جس نے ان کو تھکا دیا۔ اس وقت لشکر میں گھوڑے بھی کم تھے۔ آخر کار ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ تعالیٰ نے اسے روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وحشی جانوروں کی طرح ان میں بھی کچھ وحشی ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بے قابو ہو جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کیا کرو۔“ میں نے کہا: ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے مڈبھیڑ ہو گی اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں تو کیا ہم بانس کی کھپچی سے ذبح کر لیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چیز خون بہا دے وہ استعمال کر سکتے ہو اور جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھا سکتے ہو، البتہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ کرو؛ میں تمہیں اس کی وجہ بھی بیان کرتا ہوں کہ دانت تو ایک ہڈی ہے اور ناخن، کفارِ حبشہ کی چھری ہے (جس سے وہ ذبح کرتے ہیں)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5501
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا، فَقَالَ لِأَهْلِهِ: لَا تَأْكُلُوا حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، أَوْ حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَنْ يَسْأَلُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعَثَ إِلَيْهِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا".
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، انہوں نے ابن کعب بن مالک سے سنا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان کے گھر ایک لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی (چراتے وقت ایک مرتبہ) اس نے دیکھا کہ ایک بکری مرنے والی ہے۔ چنانچہ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری ذبح کر دی تو کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اسے اس وقت تک نہ کھانا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم نہ پوچھ آؤں یا (انہوں نے یہ کہا کہ) میں کسی کو بھیجوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ آئے پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کی اجازت بخشی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5501]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہیں عبدالرحمن کے والد گرامی نے بتایا کہ ان کی لونڈی سلع پہاڑی پر بکریاں چرایا کرتی تھی، اس نے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مرنے کے قریب ہے، تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اسے ذبح کر دیا۔ اہل خانہ میں سے کسی نے گھر والوں کو کہا: ”اسے مت کھاؤ یہاں تک کہ میں اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں یا کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجتا ہوں جو آپ سے مسئلہ پوچھ کر آئے۔“ چنانچہ وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یا کسی کو آپ کے پاس بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5501]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5502
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ:" أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِالْجُبَيْلِ الَّذِي بِالسُّوقِ وَهُوَ بِسَلْعٍ فَأُصِيبَتْ شَاةٌ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے بنی سلمہ کے ایک صاحب (ابن کعب بن مالک) نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑی پر جو ”سوق مدنی“ میں ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر لیا، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی اس پہاڑ پر جو سوق مدنی ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک بکری مرنے کے قریب ہو گئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر دیا، لوگوں نے اس امر کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے انہیں ”اس کے کھانے کی اجازت دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5504
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ:" أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا"، وَقَالَ اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ بِهَذَا.
ہم سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں نافع نے، انہیں کعب بن مالک کے ایک بیٹے نے اور انہیں ان کے باپ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے قبیلہ انصار کے ایک شخص کو سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5504]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے بکری پتھر سے ذبح کر لی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کے کھانے کا حکم فرمایا۔“ ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری شخص سے سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ”حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی۔“ پھر مذکورہ حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الذبائح والصيد/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة