صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب النعال السبتية وغيرها:
باب: صاف چمڑے کی جوتی پہننا۔
حدیث نمبر: 5850
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا،" أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مسلمہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5850]
حضرت سعید ابو سلمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتی پہن کر نماز پڑھ لیتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں (پڑھ لیتے تھے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،" أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومسلمہ سعید بن یزید ازدی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں!۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 386]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے دریافت کیا گیا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ"، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَ مِائَةٍ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: مَا بَيْنَ سِتِّ مِائَةٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ۔“ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے (مذکورہ بالا سند کے ساتھ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی (ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا) اور ابومعاویہ نے (اپنی روایت میں) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3060]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنے لوگ بھی کلمہ اسلام پڑھتے ہیں ان کی مردم شماری کر کے میرے سامنے پیش کرو۔“ چنانچہ ہم نے ایک ہزار پانچ صد مردوں کے نام قلم بند کیے۔ پھر ہم نے (اپنے دل میں) کہا کہ کیا ہم اب بھی (کافروں سے) ڈریں، حالانکہ ہم پندرہ سو کی تعداد میں ہیں؟ پھر ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ ہم اس قدر خوف و ہراس میں مبتلا کر دیے گئے کہ ہم میں سے کوئی مارے خوف کے اکیلا ہی نماز پڑھ لیتا۔ امام اعمش رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی اور ابو معاویہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ وہ تعداد چھ سو سے سات سو تک تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة