صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. باب ما يذكر فى الشيب:
باب: بڑھاپے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5898
وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ" أَرَتْهُ شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمَرَ".
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5898]
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب ہی سے ایک دوسری روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”انہیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک دکھایا جو سرخ تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5898]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبٍ أَبِي جُحَيْفَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ بَيَاضًا مِنْ تَحْتِ شَفَتِهِ السُّفْلَى الْعَنْفَقَةَ".
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے وہب نے، ان سے ابوجحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ مبارک کے نیچے ٹھوڑی کے کچھ بال سفید تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3545]
حضرت ابوجحیفہ سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نچلے ہونٹ کے نیچے داڑھی بچہ میں سفیدی دیکھی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3545]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3546
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ شَيْخًا، قَالَ: كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ".
ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3546]
حضرت حریز بن عثمان سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: بتائیے بھلا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے، یعنی آپ کے بال سفید تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی داڑھی بچہ میں چند بال سفید تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5894
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا،" أَخَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَمْ يَبْلُغِ الشَّيْبَ إِلَّا قَلِيلًا".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا تھا؟ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5894]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک بہت کم سفید ہوئے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5894]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5895
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ، عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَبْلُغْ مَا يَخْضِبُ، لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهِ فِي لِحْيَتِهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق سوال کیا گیا تو احول نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5895]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب لگانے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”آپ کو خضاب لگانے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔ اگر میں چاہتا تو آپ کی ڈاڑھی مبارک کے سفید بال شمار کرسکتا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5896
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ:" أَرْسَلَنِي أَهْلِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، وَقَبَضَ إِسْرَائِيلُ ثَلَاثَ أَصَابِعَ مِنْ قُصَّةٍ فِيهِ شَعَرٌ مِنْ شَعَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ إِذَا أَصَابَ الْإِنْسَانَ عَيْنٌ أَوْ شَيْءٌ بَعَثَ إِلَيْهَا مِخْضَبَهُ فَاطَّلَعْتُ فِي الْجُلْجُلِ فَرَأَيْتُ شَعَرَاتٍ حُمْرًا"
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا (راوی حدیث) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ (وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا (جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5896]
حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”مجھے گھر والوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کی ایک پیالی دے کر بھیجا (راویِ حدیث اسرائیل نے اپنی انگلیاں بند کر لیں، یعنی وہ پیالی بہت چھوٹی تھی) اس میں ایک گچھا تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے، جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا برتن بھیج دیتا۔“ (حضرت عثمان بن موہب رحمہ اللہ کہتے ہیں:) ”میں نے اس ڈبیہ میں جھانکا تو مجھے چند ایک سرخ بال دکھائی دیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة