صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب الزيارة ومن زار، قوما فطعم عندهم:
باب: ملاقات کے لیے جانا اور جو لوگوں سے ملنے گیا اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا تو یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 6080
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6080]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ انصار کے ایک گھرانے کی زیارت کی اور ان کے ہاں کھانا تناول فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لانے لگے تو گھر میں ایک جگہ کے متعلق حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی دھو کر صاف کر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور اہل خانہ کے لیے دعا فرمائی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرينَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا،" فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ صَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسِ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو (صاف کر کے) دھو دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں۔ آل جارود کے ایک شخص (عبدالحمید) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 670]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک انصاری شخص نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا کہ وہ آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ غیر معمولی موٹاپے کا شکار تھا، چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ (آپ اس کے گھر تشریف لے گئے تو) اس نے آپ کے لیے ایک چٹائی بچھائی، اس کے ایک کنارے کو دھو کر اس پر آپ نے دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ چاشت پڑھا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نے اس روز کے علاوہ کبھی آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة