🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب المعانقة وقول الرجل كيف أصبحت:
باب: معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیسا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6266
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا"، فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: أَلَا تَرَاهُ أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ الثَّلَاثِ عَبْدُ الْعَصَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْأَلَهُ فِيمَنْ يَكُونُ الْأَمْرُ؟ فَإِنْ كَانَ فِينَا، عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا أَمَرْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، قَالَ عَلِيٌّ:" وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَمْنَعُنَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا، وَإِنِّي لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا".
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب نے خبر دی، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (مرض الموت میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے، یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسی گزاری؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ آپ کو سکون رہا ہے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا۔ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے نہیں ہو۔ (واللہ) تین دن کے بعد تمہیں لاٹھی کا بندہ بننا پڑے گا۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وفات پا جائیں گے۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں، اس لیے ہمارے ساتھ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ تاکہ پوچھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6266]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے بتایا کہ: «الْحَمْدُ لِلّٰہِ» اللہ کا شکر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے حال میں صبح کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے نہیں ہو؟ اللہ کی قسم! تین دن کے بعد تمہیں لاٹھی کا بندہ بننا پڑے گا۔ اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض میں وفات پا جائیں گے۔ میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے اثرات کو خوب پہچانتا ہوں، لہذا تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تاکہ ہم آپ سے دریافت کر لیں کہ آپ کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ اگر ہمارے پاس ہوگی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں ہو تو ہم آپ سے عرض کریں گے کہ آپ ہمارے بارے میں کچھ وصیت کر دیں۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور آپ نے انکار کر دیا تو لوگ ہمیں کبھی خلافت نہیں دیں گے، اس لیے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اس قسم کا سوال نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6266]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ: أَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي لَأَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، اذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ؟ إِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا عَلِمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ:" إِنَّا وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے خبر دی اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین صحابہ میں سے ایک تھے جن کی (غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی) توبہ قبول ہوئی تھی۔ انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے۔ یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ سے پوچھا: ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آج مزاج کیا ہے؟ صبح انہوں نے بتایا کہ الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے۔ پھر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کے کہا کہ تم، اللہ کی قسم تین دن کے بعد زندگی گزارنے پر تم مجبور ہو جاؤ گے۔ اللہ کی قسم، مجھے تو ایسے آثار نظر آ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے صحت نہیں پا سکیں گے۔ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہروں کی مجھے خوب شناخت ہے۔ اب ہمیں آپ کے پاس چلنا چاہئیے اور آپ سے پوچھنا چاہئیے کہ ہمارے بعد خلافت کسے ملے گی۔ اگر ہم اس کے مستحق ہیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر کوئی دوسرا مستحق ہو گا تو وہ بھی معلوم ہو جائے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق اپنے خلیفہ کو ممکن ہے کچھ وصیتیں کر دیں لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر ہم نے اس وقت آپ سے اس کے متعلق کچھ پوچھا اور آپ نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں ہمیشہ کے لیے اس سے محروم کر دیں گے۔ میں تو ہرگز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4447]
حضرت کعب بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ان تین بزرگوں میں سے ایک ہیں جن کی توبہ قبول کی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ایک دن حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے باہر آئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرضِ وفات میں مبتلا تھے۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اللہ کا شکر ہے، اب اچھے ہیں۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا: «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! تم تین (دن) کے بعد محکوم اور لاٹھی کے غلام بن جاؤ گے کیونکہ «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مرض سے وفات پا جائیں گے۔ میں بنو مطلب کے چہرے ان کی موت کے وقت پہچانتا ہوں۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اس امر کے متعلق دریافت کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہو گا؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو خلافت دی تو معلوم ہو جائے گا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے کو خلافت سونپی تو بھی معلوم ہو جائے گا اور تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق حسنِ سلوک کی اسے وصیت فرمائیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر سے متعلق دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم فرما دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگ ہمیں کبھی خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔ «وَاللّٰهِ» اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کے متعلق سوال نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں