صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب مولى القوم من أنفسهم، وابن الأخت منهم:
باب: جو شخص کسی قوم کا غلام ہو آزاد کیا گیا وہ اسی قوم میں شمار ہو گا، اسی طرح کسی قوم کا بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہو گا۔
حدیث نمبر: 6762
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم".» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 6762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیونکہ ان کی جاہلیت (کفر) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے (ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3528
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟، قَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا، پھر ان سے پوچھا کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفرائض/حدیث: 3528]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة