🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ إِذَا عَرَّضَ الذِّمِّيُّ وَغَيْرُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَرِّحْ نَحْوَ قَوْلِهِ السَّامُ عَلَيْكَ:
باب: اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (السلام علیکم کے بدلے) السام علیک کہا کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6928
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنَّمَا يَقُولُونَ: سَامٌ عَلَيْكَ، فَقُلْ عَلَيْكَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان بن عیینہ، اور امام مالک سے، ان دونوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودی لوگ جب تم مسلمانوں میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو «سام عليك‏.‏» کہتے ہیں تم بھی جواب میں «عليك» کہا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6928]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی لوگ جب تم میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر موت ہو“ کہتے ہیں، تم جواب میں یہی کہہ دیا کرو: «وَعَلَيْكَ» ”تم پر بھی یہی کچھ ہو۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6928]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6030
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ يَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: عَلَيْكُمْ وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، قَالَ:" مَهْلًا يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ" قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا! قَالَ:" أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ، رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم‏.‏» (تم پر موت آئے) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم،‏‏‏‏ ولعنكم الله،‏‏‏‏ وغضب الله عليكم‏.‏» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (ٹھہرو) عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6030]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: کچھ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: «السَّامُ عَلَيْكُمْ» ”یعنی تم پر موت آئے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں کہا: ”تم پر بھی موت آئے۔ تم پر اللہ کی لعنت ہو اور غضب نازل ہو۔“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! نرمی کرو، سختی اور بد زبانی سے اجتناب کرو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے انہیں جو جواب دیا وہ تم نے نہیں سنا؟ میں نے ان کی بات ان پر لوٹا دی تھی۔ ان کے متعلق میری بد دعا قبول ہوگی لیکن میرے حق میں ان کی بد زبانی قبول ہی نہیں ہوگی۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6030]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6257
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی «السام عليك‏.‏» کہے تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليك» (اور تمہیں بھی) کہہ دیا کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6257]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب یہودی تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر موت آئے“ ہی کہتا ہے، لہٰذا تم اس کے جواب میں صرف «وَعَلَيْكَ» کہو، یعنی ”تمہیں بھی ایسا ہی پیش آئے۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6258
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليكم» کہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6258]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو تم اس کے جواب میں صرف «وَعَلَيْكُمْ» ”وعلیکم“ کہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6258]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6926
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ؟ قَالَ: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَقْتُلُهُ؟، قَالَ: لَا، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ".
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے، انہوں نے ہشام بن زید بن انس سے، وہ کہتے تھے میں نے اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کہنے لگا «السام عليك‏.‏» یعنی تم مرو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعليك‏"‏‏.‏» کہا (تو بھی مرے گا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہوا، اس نے کیا کہا؟ اس نے «السام عليك‏.‏» کہا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (حکم ہو تو) اس کو مار ڈالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نہیں۔ جب کتاب والے یہود اور نصاریٰ تم کو سلام کیا کریں تو تم بھی یہی کہا کرو «وعليكم» ۔ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6926]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: ”تم پر ہلاکت ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے جواب میں) فرمایا: ”تجھ پر بھی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) پوچھا: ”تمہیں معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے «السَّامُ عَلَيْكَ» ”تم پر ہلاکت ہو“ کہا تھا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ”اللہ کے رسول! اسے ہم قتل نہ کر دیں؟“ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تمہیں اہل کتاب سلام کہیں تو تم جواب میں یہ کہہ دیا کرو: «وَعَلَيْكُمْ» ”تم پر بھی۔““ [صحيح البخاري/كتاب استتابة المرتدين/حدیث: 6926]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں