🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب كيف يرد على أهل الذمة السلام:
باب: ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6257
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَإِنَّمَا يَقُولُ أَحَدُهُمُ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقُلْ: وَعَلَيْكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی «السام عليك‏.‏» کہے تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليك» (اور تمہیں بھی) کہہ دیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الاستئذان/حدیث: 6257]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن دينار القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبد الله بن يوسف الكلاعي، أبو محمد
Newعبد الله بن يوسف الكلاعي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة متقن من أثبت الناس في الموطأ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6928
اليهود إذا سلموا على أحدكم إنما يقولون سام عليك فقل عليك
صحيح البخاري
6257
إذا سلم عليكم اليهود فإنما يقول أحدهم السام عليك فقل وعليك
صحيح مسلم
5654
اليهود إذا سلموا عليكم يقول أحدهم السام عليكم فقل عليك
جامع الترمذي
1603
اليهود إذا سلم عليكم أحدهم فإنما يقول السام عليكم فقل عليك
سنن أبي داود
5206
اليهود إذا سلم عليكم أحدهم فإنما يقول السام عليكم فقولوا وعليكم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
480
إن اليهود إذا سلم عليكم احدهم فإنما يقول: السام عليكم، فقل: عليك
مسندالحميدي
671
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6257 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6257
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کہتے ہیں تو ہم انھیں کسی طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا:
"تم انھیں"وعلیکم" کہا کرو۔
" یعنی السلام کا لفظ نہ بولا کرو۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5207)
بلکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو اس نے "السام علیك" کہا، یعنی آپ پر ہلاکت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں صرف "وعلیك" کہا، یعنی تجھ پر بھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
تمھیں معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا تھا؟ اس نے "السام علیك" کہا تھا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:
ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا:
نہیں، بلکہ جب تم پر اہل کتاب اس انداز سے سلام کہیں تو تم جواب میں "وعلیکم" کہہ دیا کرو۔
(صحیح البخاری، استتابة المرتدین، حدیث: 6926)
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ یہودی کو پکڑکر پوچھا تو اس نے اس بات کا اقرار کرلیا تو آپ نے فرمایا:
اس نے جو کہا تھا وہی اسے واپس کردو۔
(الأدب المفرد، حدیث: 1105)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6257]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 480
غیر مسلم کے سلام کا جواب
«. . . 292- وبه: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن اليهود إذا سلم عليكم أحدهم فإنما يقول: السام عليكم، فقل: عليك. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں میں سے کوئی جب تمہیں سلام کہتا ہے تو «السام عليكم» (تم پر موت ہو یعنی تم مر جاؤ) کہتا ہے پس تم جواب دو: «عليك» (تجھ پر) . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 480]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 6257، من حديث مالك، ومسلم 2164، من حديث عبدالله بن دينار به]
تفقه
➊ کفار کو السلام علیکم نہیں کہنا چاہئے۔ اگر وہ سلام کریں تو وعلیکم سے ان کو جواب دینا چاہئے۔
➋ یہود ونصاریٰ اور تمام کفار مسلمانوں کے پکے دشمن ہیں اور اس دشمنی میں وہ سب متفق ہیں۔
➌ سلام کا جواب دینا واجب اور ضروری ہے۔
➍ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اگر کوئی کافر صریح گستاخی کرے تو دوسرے دلائل کی رُو سے اُسے قتل کردیا جائے گا۔ دیکھئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مشہور کتاب: الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول۔‏‏‏‏ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
➎ ایک یمنی شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نابینا ہونے کے بعد والے دور میں آپ کو سلام کہا:۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد اس شخص نے کچھ کلمات کا اضافہ کیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سلام تو برکاتہ پر ختم ہوگیا ہے۔ [الموطأ 2/959 ح1855، وسنده صحيح]
➏ اگر کوئی شخص کسی کے خلاف سخت زبان استعمال کرے تو شرعی حدود کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سختی کے ساتھ اس کا جواب دیا جاسکتا ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 292]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:671
671- سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرتے ہوئے السام علیک (تمہیں موت آئے) کہے، تو تم کہو علیک (یعنی تمہیں بھی آئے)۔‏‏‏‏ عبداللہ بن دینار کہتے ہیں: ایک شخص پہلے یہودی تھا پھر اس نے اسلام قبول کرلیا وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سلام کرتا تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسے جب بھی سلا م کا جواب دیتے تھے تو ہمیشہ علیک ہی کہا: کرتے تھے۔ اس نے عرض کی: اے ابوعبدالرحٰمن! میں مسلمان ہوچکا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پھر بھی علیک ہی کہا کرتے تھے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:671]
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلم سلام کہے تو جواب میں صرف وعلیک کہنا چاہیے، اور غیر مسلم کو سلام میں پہل نہیں کرنی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 671]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6928
6928. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودی لوگ جب تم میں سے کسی کو سلام کرتے ہیں تو سام علیك تم پر موت ہو کہتے ہیں۔ تم جواب میں یہی کہہ دیا کرو: تم پر بھی یہی کچھ ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6928]
حدیث حاشیہ:
(1)
قوم یہود کی یہ گندگی اور بری فطرت تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی مسلمان کو سلام کہتے تو اپنے دل کی بھڑاس اس طرح نکالتے کہ ان الفاظ میں سلام کرتے:
تم پر موت یا ہلاکت ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا نوٹس اس طرح لیتے کہ ان کے الفاظ ہی ان کے منہ پر مار دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہی تلقین فرمائی کہ ان کے متعلق بدزبانی کرنے کے بجائے ان کے اپنے الفاظ ہی انھیں واپس کر دیے جائیں۔
اس انداز سے ان کی بددعا خود ان کے لیے ہی موجب وبال اور باعث عذاب ہوگی۔
اگر وہ علانیہ طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کریں تو پھر انھیں قتل کر دیا جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کعب بن اشرف اور ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔
(2)
دور حاضر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین وتنقیص کرنے والوں کا بھی یہی حکم ہے اور یہ ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ انھیں معاف کر دینے کا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہے جواب موجود نہیں ہیں۔
ہم نے اس موضوع پر ایک مفصل فتویٰ لکھا تھا جو فتاویٰ اصحاب الحدیث کی دوسری جلد میں دیکھا جا سکتا ہے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6928]