صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلاَكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةٍ سُفَهَاءَ»:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمایا ”میری امت کی تباہی چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی“۔
حدیث نمبر: 7058
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي، قَالَ:" كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَمَعَنَا مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ:" هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ"، فَقَالَ مَرْوَانُ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ جَدِّي إِلَى بَنِي مَرْوَانَ حِينَ مُلِّكُوا بِالشَّأْمِ، فَإِذَا رَآهُمْ غِلْمَانًا أَحْدَاثًا، قَالَ لَنَا: عَسَى هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا مِنْهُمْ، قُلْنَا: أَنْتَ أَعْلَمُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھ سے ہو گی۔ مروان نے اس پر کہا ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں۔ پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا۔ جب وہاں انہوں نے نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا کہ شاید یہ انہی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا کہ آپ کو زیادہ علم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7058]
حضرت عمرو بن یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے دادا نے بتایا کہ ”میں مدینہ طیبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی۔“ مروان نے کہا: ”ان پر اللہ کی لعنت ہو۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر میں ان کے خاندان سمیت ان کے نام بتانا چاہوں تو ان کی نشاندہی کر سکتا ہوں۔“ پھر جب بنو مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ہمراہ ان کی طرف جاتا تھا، انہوں نے جب وہاں ان کے چھوکروں کو دیکھا تو کہا: ”شاید یہ انہی میں سے ہوں۔“ ہم نے کہا: ”ان کے متعلق تو آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔““ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7058]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3604
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُهْلِكُ النَّاسَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا، قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ"، قَالَ مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ.
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے۔“ محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوالتیاح نے، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3604]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کو یہ قبیلہ قریش ہلاک کر دے گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! اس وقت لوگ ان سے الگ رہیں۔“ شعبہ کے ایک دوسرے طریق میں ابوالتیاح کی ابوزرعہ سے سماع کی تصریح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3604]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ مَرْوَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقُ، يَقُولُ:" هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ مَرْوَانُ: غِلْمَةٌ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنْ شِئْتَ أَنْ أُسَمِّيَهُمْ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ".
مجھ سے احمد محمد مکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس وقت میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3605]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔“ مروان نے ازراہ تعجب کہا: نوجوانوں کے ہاتھوں سے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو چاہتا ہے تو میں ان کے نام ذکر کیے دیتا ہوں: وہ فلاں فلاں کے بیٹے ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 3605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة