صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب التعوذ من الفتن:
باب: فتنوں سے پناہ مانگنا۔
حدیث نمبر: 7090
وَقَالَ عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ: كُلُّ رَجُلٍ لَافًّا رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي، وَقَالَ: عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ سُوءِ الْفِتَنِ، أَوْ قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سَوْءَى الْفِتَنِ.
اور عباس النرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7090]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو ہر شخص اپنے کپڑے میں سر لپیٹے رو رہا تھا اور فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا: ”میں فتنوں کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 7090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 93
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا"، فَسَكَتَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہیں انس بن مالک نے بتلایا کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں (اور یہ جملہ) تین مرتبہ (دہرایا) پھر (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 93]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر سوال کیا: میرے والد کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے والد حذافہ ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرمایا: ”مجھ سے دریافت کرو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوزانو بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر خوش ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الفتن/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة