صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب قول الله تعالى: {والله خلقكم وما تعملون} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الصافات میں) ارشاد ”اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو“۔
حدیث نمبر: 7555
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جُرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا، فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَلْأُحَدِّثْكَ عَنْ ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ:" أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، ثُمَّ انْطَلَقْنَا، قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: فَقَالَ: لَسْتُ أَنَا أَحْمِلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ اس قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، سنو! میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں۔ ہم نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں، واللہ! ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ ہم واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے۔ واللہ! میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7555]
حضرت زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”قبیلہ جرم اور اشعری قبیلے کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے ہاں بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا: ”میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو اسی وقت سے قسم اٹھائی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آؤ! میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعری قبیلے کے چند افراد لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت کیا: ”اشعری کہاں ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے کہا: ”یہ ہم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں، اس کے باوجود آپ نے ہمیں سواریاں دی ہیں۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم! ایسے حالات میں تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔“ پھر ہم آپ کی طرف لوٹے اور آپ سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سواریاں نہیں دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں جب کوئی قسم اٹھاتا ہوں، پھر اس کا غیر اس سے بہتر دیکھتا ہوں تو وہ کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور قسم کا کفارہ دے کر اس سے خلاصی حاصل کر لیتا ہوں۔“““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ، الْقَاسِمُ بْنُ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيُّ عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَأُتِيَ ذَكَرَ دَجَاجَةً وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي فَدَعَاهُ لِلطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ لَا آكُلُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَلْأُحَدِّثْكُمْ عَنْ ذَاكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ، وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ:" أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا مَا صَنَعْنَا لَا يُبَارَكُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: إِنَّا سَأَلْنَاكَ أَنْ تَحْمِلَنَا فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا أَفَنَسِيتَ، قَالَ: لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور (ایوب نے ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے کہ) مجھ سے قاسم بن عاصم کلیبی نے بیان کیا اور کہا کہ قاسم کی حدیث (ابوقلابہ کی حدیث کی بہ نسبت) مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے ‘ زہدم سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے (کھانا لایا گیا اور) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے۔ غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا ‘ وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ (تمہاری قسم پر) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں ‘ قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (غزوہ تبوک کے لیے) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا ‘ کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا ‘ اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ‘ خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا۔ شاید آپ کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! تم اس پر یقین رکھو کہ ان شاءاللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں ‘ پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 3133]
حضرت زہدم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے کہ وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ وہاں تیم اللہ قبیلے سے سرخ رنگ کا ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، اور وہ غلام معلوم ہوتا تھا۔ انہوں نے اس کو کھانے کے لیے بلا لیا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو ایک مرتبہ گندی چیزیں کھاتے دیکھا تو مجھے انتہائی نفرت ہوئی اور میں نے قسم اٹھائی کہ آئندہ کبھی مرغی کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے قریب آ جاؤ میں تجھے اس کے متعلق ایک حدیث بیان کرتا ہوں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشعر قبیلے کے چند لوگوں کے ہمراہ حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تمہارے لیے سواری کا بندوبست نہیں کرسکتا کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آسکے۔“ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپ نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا: ”قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟“ الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفید کوہانوں والے موٹے تازے پانچ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم وہاں سے چلے تو آپس میں کہنے لگے: ہم نے یہ کیا طریقہ اختیار کیا؟ یہ طریقہ ہمارے لیے باعث برکت نہیں ہوگا، چنانچہ ہم لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم نے آپ سے سواریوں کے متعلق درخواست گزاری تھی تو آپ نے قسم اٹھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کرسکوں گا۔ شاید آپ کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی میں نے تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ سواریاں دی ہیں۔ اللہ کی قسم! بلاشبہ اگر اللہ چاہے تو میں کسی بات پر قسم نہیں اٹھاتا، تاہم (اگر قسم اٹھا لوں اور) قسم اٹھانے کے بعد مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ مناسب طرز عمل اس قسم کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہوگی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 3133]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4385
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو مُوسَى أَكْرَمَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ جَرْمٍ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ عِنْدَهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى دَجَاجًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ، فَدَعَاهُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ، فَقَالَ: إِنِّي حَلَفْتُ لَا آكُلُهُ، فَقَالَ: هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنْ يَمِينِكَ، إِنَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَأَبَى أَنْ يَحْمِلَنَا، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُتِيَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا، قُلْنَا: تَغَفَّلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ بَعْدَهَا أَبَدًا، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَقَدْ حَمَلْتَنَا، قَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنْ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالسلام بن حرب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے زہدم نے کہ جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (کوفہ کے امیر بن کر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں) آئے تو اس قبیلہ جرم کا انہوں نے بہت اعزاز کیا۔ زہدم کہتے ہیں ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اور وہ مرغ کا ناشتہ کر رہے تھے۔ حاضرین میں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا کہ جب سے میں نے مرغیوں کو کچھ (گندی) چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے اس کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آؤ بھائی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ ان صاحب نے کہا لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم آ تو جاؤ میں تمہیں تمہاری قسم کے بارے میں بھی علاج بتاؤں گا۔ ہم قبیلہ اشعر کے چند لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (غزوہ تبوک کے لیے) جانور مانگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سواری نہیں ہے۔ ہم نے پھر آپ سے مانگا تو آپ نے اس مرتبہ قسم کھائی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے لیکن ابھی کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ غنیمت میں کچھ اونٹ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے پانچ اونٹ ہم کو دلائے۔ جب ہم نے انہیں لے لیا تو پھر ہم نے کہا کہ یہ تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا۔ آپ کو غفلت میں رکھا، قسم یاد نہیں دلائی۔ ایسی حالت میں ہماری بھلائی کبھی نہیں ہو گی۔ آخر میں آپ کے پاس آیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے تو قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سواری نہیں دیں گے پھر آپ نے سواری دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن جب بھی میں کوئی قسم کھاتا ہوں اور اس کے سوا دوسری صورت مجھے اس سے بہتر نظر آتی ہے تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4385]
حضرت زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے قبیلہ جَرم کا بہت اعزاز و احترام کیا۔ ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے تھے جبکہ آپ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی کھانے پر بلایا تو ان صاحب نے کہا: جب سے میں نے ان مرغیوں کو کچھ چیزیں کھاتے دیکھا ہے، اسی وقت سے مجھے ان کے گوشت سے گھن آنے لگی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آؤ، میں نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔“ اس نے کہا: لیکن میں نے اس کا گوشت نہ کھانے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آؤ میں تمہاری قسم کے متعلق بھی تمہیں بتاتا ہوں۔ ہمارے قبیلہ اشعر کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سواریاں مانگنے لگے۔ آپ نے ہمیں سواریاں مہیا کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر سواری کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ ہمیں سواری مہیا نہیں کریں گے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ آپ کے پاس غنیمت کے اونٹ آ گئے۔ آپ نے ان میں سے پانچ اونٹ ہمیں دینے کا حکم دیا۔ جب ہم نے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تو ہمیں خیال آیا کہ ہم نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم سے غافل کر دیا ہے۔ اس کے بعد تو ہم کسی صورت میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو ہمیں سواریاں نہ دینے کی قسم اٹھائی تھی جبکہ اب آپ نے ہمیں سواریاں مہیا کر دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ایسا ہی ہے لیکن جب میں کسی بات پر قسم اٹھا لیتا ہوں پھر اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت مجھے بہتر نظر آئے تو وہی کرتا ہوں جو اچھا اور بہتر ہوتا ہے (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔“““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 4385]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5518
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ جَالِسٌ أَحْمَرُ فَلَمْ يَدْنُ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: ادْنُ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ أَكَلَ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ أَوْ أُحَدِّثْكَ، إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، قَالَ: مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبٍ مِنْ إِبِلٍ، فَقَالَ:" أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ أَيْنَ الْأَشْعَرِيُّونَ؟" قَالَ: فَأَعْطَانَا خَمْسَ ذَوْدٍ غُرَّ الذُّرَى فَلَبِثْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا اسْتَحْمَلْنَاكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، فَظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ هُوَ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب بن ابی تمیمہ نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ہم میں اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارہ تھا پھر کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا، حاضرین میں ایک شخص سرخ رنگ کا بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ کھانے میں شریک نہیں ہوا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تھا اسی وقت سے مجھے اس سے گھن آنے لگی ہے اور میں نے قسم کھا لی ہے کہ اب اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شریک ہو جاؤ میں تمہیں خبر دیتا ہوں یا انہوں نے کہا کہ میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر حاضر ہوا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ خفا تھے آپ صدقہ کے اونٹ تقسیم فرما رہے تھے۔ اسی وقت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ کا سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا لی کہ آپ ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی جانور نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اشعری کہاں ہیں، اشعری کہاں ہیں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ سفید کوہان والے اونٹ دے دیئے۔ تھوڑی دیر تک تو ہم خاموش رہے لیکن پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں اور اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غافل رکھا تو ہم کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے آپ سے سواری کے اونٹ ایک مرتبہ مانگے تھے تو آپ نے ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہ دینے کی قسم کھا لی تھی ہمارے خیال میں آپ اپنی قسم بھول گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جس نے تمہیں سواری کے لیے جانور عطا فرمایا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں کوئی قسم کھا لوں اور پھر بعد میں مجھ پر واضح ہو جائے کہ اس کے سوا دوسری چیز اس سے بہتر ہے اور پھر وہی میں نہ کروں جو بہتر ہے، میں قسم توڑ دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 5518]
حضرت زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے جبکہ ہمارے اور قبیلہ جرم کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ تھا۔ ہمارے سامنے ایک کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ حاضرین میں سے ایک شخص سرخ رنگ کا بیٹھا ہوا تھا، وہ اس کھانے کے قریب نہ آیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا، اسی وقت سے مجھے اس سے گھن آنے لگی ہے؛ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ آئندہ میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم شریک ہو جاؤ، میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث بیان کرتا ہوں، وہ یہ کہ میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ہمراہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی بات پر) خفا تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، اسی وقت ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹوں کا سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی کہ آپ ہمیں سواریوں کے لیے اونٹ نہیں دیں گے اور فرمایا: ”اس وقت میرے پاس تمہارے لیے سواری کا کوئی جانور نہیں ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری کہاں ہیں؟“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سفید کوہانوں والے پانچ اونٹ دیے۔ تھوڑی دیر تک تو ہم خاموش رہے، پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی (قسم) بھول گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل رکھا تو ہمیں کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے اونٹ طلب کیے تھے تو آپ نے ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہ دینے کی قسم اٹھائی تھی، ہمارے خیال کے مطابق آپ اپنی قسم بھول گئے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی نے تمہیں سواری فراہم کی ہے۔ اللہ کی قسم! «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ تو کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں قسم اٹھاؤں، پھر اس کے علاوہ کوئی چیز بہتر دیکھوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 5518]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6623
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ نَلْبَثَ، ثُمَّ أُتِيَ بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَحَمَلَنَا عَلَيْهَا، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا، أَوْ قَالَ بَعْضُنَا: وَاللَّهِ لَا يُبَارَكُ لَنَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، فَارْجِعُوا بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُذَكِّرُهُ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَوْ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6623]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں چند اشعری لوگوں کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی چیز ہی ہے جس پر تمہیں سوار کروں۔“ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم جس قدر اللہ کو منظور تھا وہاں ٹھہرے رہے، اس دوران میں سفید کوہان والے تین اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے تو آپ نے ہمیں ان پر سوار کر دیا۔ جب ہم وہاں سے روانہ ہونے لگے تو ہم میں سے بعض نے کہا: اللہ کی قسم! ان میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہوگی کیونکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور آپ سے سواری کا مطالبہ کیا تھا تو آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ ہمیں سواری مہیا نہیں کر سکتے، پھر آپ نے ہمیں سواریاں عنایت کی ہیں، لہذا تم سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس جاؤ تاکہ ہم آپ کو قسم یاد دلائیں، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری سواری کا بندوبست کیا ہے۔ اللہ کی قسم! «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ میں کسی چیز کے متعلق قسم نہیں اٹھاتا مگر جب اس کے خلاف بہتر خیال کرتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور وہ کام کر گزرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے، یا (بایں طور فرمایا کہ) بہتر کام کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6623]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6649
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ، وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ:" أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ"، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا، فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تیمی نے اور ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6649]
حضرت زہدم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”قبیلہ جرم اور اشعری حضرات کے درمیان محبت اور بھائی چارہ تھا۔ ہم ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے کہ انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغ کا گوشت تھا۔ اس وقت آپ کے پاس قبیلہ بنو تیم اللہ سے ایک سرخ رنگ کا آدمی موجود تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ غلاموں میں سے ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس کو کھانے کی دعوت دی تو اس نے کہا: میں نے مرغی کو گندی چیز کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی، پھر میں نے قسم کھا لی کہ آئندہ میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ! میں تمہیں اس کے متعلق ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ہمراہ حاضر ہوا، ہم نے آپ سے سواری کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ ذاتی طور پر میرے پاس کوئی سواری ہی ہے جو تمہیں دے سکوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت سے کچھ اونٹ آئے تو آپ نے ہمارے بارے میں پوچھا: ”اشعری حضرات کہاں ہیں؟“ پھر آپ نے ہمیں سفید کوہانوں والے پانچ عمدہ اونٹ عطا کرنے کا حکم دیا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے (آپس میں کہا): یہ ہم نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ وہ ہمیں سواری مہیا نہیں کریں گے اور نہ اس وقت آپ کے پاس سواری موجود ہی تھی، اس کے باوجود آپ نے ہمیں سواری مہیا کر دی ہے؟ ہم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم سے غافل کر دیا ہے۔ اللہ کی قسم! ہم تو اس حرکت کے بعد کبھی فلاح سے ہمکنار نہیں ہو سکیں گے، چنانچہ ہم آپ کی طرف واپس آئے اور کہا: ہم آپ کے پاس آئے تھے کہ آپ ہمیں سواریاں مہیا کریں تو آپ نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواریاں موجود نہ تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”میں نے تمہیں سواریاں نہیں دیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا بندوبست کیا ہے۔ اللہ کی قسم! جب میں کوئی قسم اٹھاتا ہوں پھر اس سے بہتر کوئی معاملہ دیکھتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور قسم سے حلال ہو جاتا ہوں، یعنی اسے توڑ کر اس کا کفارہ دے دیتا ہوں۔““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6649]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6680
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَاسْتَحْمَلْنَاهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے قاسم نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے بیان کیا کہ میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فرمایا: واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6680]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ بحالتِ غصہ تھے۔ ہم نے آپ سے سواریاں طلب کیں تو آپ نے قسم کھائی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ نے چاہا تو میں کبھی ایسی قسم نہیں کھاتا کہ اس کے سوا دوسری چیز کو بہتر خیال کروں تو وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی اور خیر خواہی ہے اور اپنی قسم توڑ کر اس کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“” [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6680]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6718
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ، مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ"، ثُمَّ لَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: لَا يُبَارِكُ اللَّهُ لَنَا، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَحَمَلَنَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ حاضر ہوا اور آپ سے سواری کے لیے جانور مانگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا۔ پھر جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم ٹھہرے رہے اور جب کچھ اونٹ آئے تو تین اونٹ ہمیں دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں اللہ اس میں برکت نہیں دے گا۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواری کے جانور نہیں دے سکتے اور آپ نے عنایت فرمائے ہیں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے جانور کا انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو جب بھی میں کوئی قسم کھا لوں گا اور پھر اس کے سوا اور چیز میں اچھائی ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہی کام کروں گا جس میں اچھائی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6718]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اشعری قبیلے کے چند آدمیوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری کا مطالبہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں۔“ پھر جس قدر اللہ نے چاہا ہم وہاں ٹھہرے۔ اس دوران میں آپ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم اونٹ لے کر چلے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا: ”اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں کوئی برکت نہ دے گا کیونکہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری لینے کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواریاں مہیا نہیں کریں گے، اس کے بعد آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور آپ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں سواری نہیں دی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا بندوبست کیا ہے۔ اللہ کی قسم! «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“، اگر میں کسی چیز کے متعلق قسم کھا لیتا ہوں، پھر اس سے بہتر کوئی چیز دیکھتا ہوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہ کام کر گزرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6718]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6721
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ الْتَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ، مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ وَمَعْرُوفٌ، قَالَ: فَقُدِّمَ طَعَامٌ، قَالَ: وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى، قَالَ: فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَيُّوبُ: أَحْسِبُهُ قَالَ: وَهُوَ غَضْبَانُ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَقِيلَ: أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ، فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَانْدَفَعْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ، فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ، اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَظَنَنَّا أَوْ فَعَرَفْنَا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، قَالَ:" انْطَلِقُوا، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا"، تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيِّ.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے مولیٰ ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں اور پھر دوسری چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم توڑ دوں گا۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6721]
حضرت زہدم جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ ہمارے اور اس قبیلہ جرم کے درمیان بھائی چارہ اور احسان شناسی کے تعلقات تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ اس کھانے میں مرغ کا گوشت بھی تھا۔ ان لوگوں میں بنو تیم اللہ سے ایک سرخ رنگ کا آدمی تھا، وہ بظاہر غلام معلوم ہوتا تھا۔ وہ کھانے کے قریب نہ آیا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھانا قریب ہو کر کھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے اسے گندگی سے کھاتے دیکھا ہے، اس لیے مجھے اس سے گھن آتی ہے اور میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اسے کبھی نہیں کھاؤں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کھانے میں شریک ہو جاؤ، میں تمہیں قسم کے متعلق آگاہ کرتا ہوں۔ ہم قبیلہ اشعر کے لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور طلب کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، میرے خیال کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جو تمہیں مہیا کر سکوں۔“ اس وقت ہم واپس چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ اشعری کہاں چلے گئے ہیں؟“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور طلب کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، میرے خیال کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جو تمہیں مہیا کر سکوں۔“ اس وقت ہم واپس چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ اشعری لوگ ہیں؟ اشعری کہاں چلے گئے ہیں؟“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ سفید کوہانوں والے عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو اس دوران میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے، پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کے جانور عنایت فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے؟ «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کے متعلق غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کی یاد دہانی کرائیں“ چنانچہ ہم واپس آئے اور کہا: ”اللہ کے رسول! ہم پہلے آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مہیا کرنے کے متعلق عرض کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ ہم نے خیال کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تمہیں اللہ ہی نے سوار کیا ہے۔ «وَاللّٰهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ!» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا“ تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں، پھر دوسری کسی چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“ حماد بن زید نے ایوب سے روایت کرنے میں اسماعیل بن ابراہیم کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 6721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة