صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ الْكَفَّارَةِ قَبْلَ الْحِنْثِ وَبَعْدَهُ:
باب: قسم کا کفارہ، قسم توڑنے سے پہلے اور اس کے بعد دونوں طرح دے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 6721
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ الْقَاسِمِ الْتَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ هَذَا الْحَيِّ، مِنْ جَرْمٍ إِخَاءٌ وَمَعْرُوفٌ، قَالَ: فَقُدِّمَ طَعَامٌ، قَالَ: وَقُدِّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى، قَالَ: فَلَمْ يَدْنُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا قَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ، أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَسْتَحْمِلُهُ، وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَيُّوبُ: أَحْسِبُهُ قَالَ: وَهُوَ غَضْبَانُ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَقِيلَ: أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ، فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، قَالَ: فَانْدَفَعْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا، نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ، فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ، اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَظَنَنَّا أَوْ فَعَرَفْنَا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ، قَالَ:" انْطَلِقُوا، فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ، إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا"، تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ الْكُلَيْبِيِّ.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ہمارے قبیلہ اور اس قبیلہ جرم میں بھائی چارگی اور باہمی حسن معاملہ کی روش تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر کھانا لایا گیا اور کھانے میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ حاضرین میں بنی تیم اللہ کا ایک شخص سرخ رنگ کا بھی تھا جیسے مولیٰ ہو۔ بیان کیا کہ وہ شخص کھانے پر نہیں آیا تو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ شریک ہو جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے اسے گندگی کھاتے دیکھا تھا جب سے اس سے گھن آنے لگی اور اسی وقت میں نے قسم کھا لی کہ کبھی اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ نے کہا: قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاؤں گا۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ آئے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صدقہ کے اونٹوں میں سے تقسیم کر رہے تھے۔ ایوب نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غصہ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے جانور نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو سواری کے لیے تمہیں دے سکوں۔ بیان کیا کہ پھر ہم واپس آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے، تو پوچھا گیا کہ اشعریوں کی جماعت کہاں ہے۔ ہم حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دئیے جانے کا حکم دیا۔ بیان کیا کہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے لیے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کا جانور عنایت فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے۔ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم کے بارے میں غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ کے پاس واپس چلیں اور آپ کو آپ کی قسم یاد دلائیں۔ چنانچہ ہم واپس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم پہلے آئے تھے اور آپ سے سواری کا جانور مانگا تھا تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ اس کا انتظام نہیں کر سکتے، ہم نے سمجھا کہ آپ اپنی قسم بھول گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تمہیں اللہ نے سواری دی ہے، واللہ اگر اللہ نے چاہا تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں اور پھر دوسری چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم توڑ دوں گا۔ اس روایت کی متابعت حماد بن زید نے ایوب سے کی، ان سے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم کلیبی نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6721]
حضرت زہدم جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ ہمارے اور اس قبیلہ جرم کے درمیان بھائی چارہ اور احسان شناسی کے تعلقات تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ اس کھانے میں مرغ کا گوشت بھی تھا۔ ان لوگوں میں بنو تیم اللہ سے ایک سرخ رنگ کا آدمی تھا، وہ بظاہر غلام معلوم ہوتا تھا۔ وہ کھانے کے قریب نہ آیا تو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھانا قریب ہو کر کھاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔“ اس نے کہا: ”میں نے اسے گندگی سے کھاتے دیکھا ہے، اس لیے مجھے اس سے گھن آتی ہے اور میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اسے کبھی نہیں کھاؤں گا۔“ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کھانے میں شریک ہو جاؤ، میں تمہیں قسم کے متعلق آگاہ کرتا ہوں۔ ہم قبیلہ اشعر کے لوگوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور طلب کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، میرے خیال کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جو تمہیں مہیا کر سکوں۔“ اس وقت ہم واپس چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ اشعری کہاں چلے گئے ہیں؟“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور طلب کیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، میرے خیال کے مطابق اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے جو تمہیں مہیا کر سکوں۔“ اس وقت ہم واپس چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غنیمت کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”یہ اشعری لوگ ہیں؟ اشعری کہاں چلے گئے ہیں؟“ چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پانچ سفید کوہانوں والے عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو اس دوران میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری نہیں دیں گے، پھر ہمیں بلا بھیجا اور سواری کے جانور عنایت فرمائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں گے؟ «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ اگر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کے متعلق غفلت میں رکھا تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ چلو ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس چلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کی یاد دہانی کرائیں“ چنانچہ ہم واپس آئے اور کہا: ”اللہ کے رسول! ہم پہلے آئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مہیا کرنے کے متعلق عرض کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ ہم نے خیال کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ تمہیں اللہ ہی نے سوار کیا ہے۔ «وَاللّٰهِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ!» ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا“ تو میں جب بھی کوئی قسم کھا لوں، پھر دوسری کسی چیز کو اس کے مقابل بہتر سمجھوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔“ حماد بن زید نے ایوب سے روایت کرنے میں اسماعیل بن ابراہیم کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6721]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6721M
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے اور ان سے زہدم نے یہی حدیث نقل کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6721M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6721M
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ زَهْدَمٍ، بِهَذَا.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے، ان سے قاسم نے اور ان سے زہدم نے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6721M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ"، تَابَعَهُ أَشْهَلُ بْنُ حَاتِمٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، وَتَابَعَهُ يُونُسُ، وَسِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَحُمَيْدٌ، وَقَتَادَةُ، وَمَنْصُورٌ، وَهِشَامٌ، وَالرَّبِيعُ.
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر بن فارس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ ابن عون نے خبر دی، انہیں امام حسن بصری نے، ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبھی تم حکومت کا عہدہ طلب نہ کرنا کیونکہ اگر بلا مانگے تمہیں یہ مل جائے گا تو اس میں تمہاری منجانب اللہ مدد کی جائے گی، لیکن اگر مانگنے پر ملا تو سارا بوجھ تمہیں پر ڈال دیا جائے گا اور اگر تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کوئی اور بات بہتر نظر آئے تو وہی کرو جو بہتر ہو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو۔ عثمان بن عمر کے ساتھ اس حدیث کو اشہل بن حاتم نے بھی عبداللہ بن عون سے روایت کیا، اس کو ابوعوانہ اور حاکم نے وصل کیا اور عبداللہ بن عون کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور سماک بن عطیہ اور سماک بن حرب اور حمید اور قتادہ اور منصور اور ہشام اور ربیع نے بھی روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6722]
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ازخود امارت کا سوال نہ کرو کیونکہ اگر تجھے یہ امارت مانگے بغیر مل جائے تو اس پر تیری مدد کی جائے گی اور اگر تجھے مانگنے سے دی جائے تو تجھے اس کے سپرد کر دیا جائے گا، نیز جب تو کسی چیز کی قسم اٹھائے پھر اس کا غیر اس سے بہتر دیکھے تو وہ کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“ اشہل نے ابن عون سے روایت کرنے میں عثمان بن عمر کی متابعت کی ہے اور یونس، سماک بن عطیہ، سماک بن حرب، حمید، قتادہ، منصور، ہشام اور ربیع نے بھی ابن عون کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب كَفَّارَاتِ الْأَيْمَانِ/حدیث: 6722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة