صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
140. بَابُ الْمُكْثِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:
باب: دونوں سجدوں کے بیچ میں ٹھہرنا۔
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَذَاكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيَّةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ هُنَيَّةً فَصَلَّى صَلَاةَ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ أَيُّوبُ: كَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ، كَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے ایوب سختیانی سے بیان کیا، انہوں نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیوں نہ سکھا دوں۔ ابوقلابہ نے کہا یہ نماز کا وقت نہیں تھا (مگر آپ ہمیں سکھانے کے لیے) کھڑے ہوئے۔ پھر رکوع کیا اور تکبیر کہی پھر سر اٹھایا اور تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے سجدہ سے سر اٹھایا اور پھر سجدہ کیا اور سجدہ سے تھوڑی دیر کے لیے سر اٹھایا۔ انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی ایوب سختیانی نے کہا کہ وہ عمرو بن سلمہ نماز میں ایک ایسی چیز کیا کرتے تھے کہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کرتے میں نے نہیں دیکھا۔ آپ تیسری یا چوتھی رکعت پر (سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہونے سے پہلے) بیٹھتے تھے۔ (یعنی جلسہ استراحت کرتے تھے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 818]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک مرتبہ اپنے شاگردوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق خبر نہ دوں؟ راوی حدیث کہتا ہے کہ وہ کسی فرض نماز کا وقت نہ تھا۔ آپ کھڑے ہوئے اور قیام کیا، پھر رکوع کیا۔ بعد ازاں «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا۔ اس کے بعد اپنا سر اٹھایا تو کچھ دیر کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک اٹھائے رکھا۔ (اس طرح) انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی سی نماز پڑھی۔ (راوی حدیث) حضرت ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا کام کرتے تھے جو ہم نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، چنانچہ وہ تیسری اور چوتھی رکعت (کے درمیان) میں بیٹھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ:" جَاءَنَا مَالِكُ بْن الْحُوَيْرِثِ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِكُمْ، وَمَا أُرِيدُ الصَّلَاةَ أُصَلِّي، كَيْفَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ فَقُلْتُ: لِأَبِي قِلَابَةَ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَ: مِثْلَ شَيْخِنَا هَذَا، قَالَ: وَكَانَ شَيْخًا يَجْلِسُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ قَبْلَ أَنْ يَنْهَضَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مالک بن حویرث (صحابی) ایک دفعہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم لوگوں کو نماز پڑھاؤں گا اور میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں ہے، میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں نماز کا وہ طریقہ سکھا دوں جس طریقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا کہ انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ ہمارے شیخ (عمر بن سلمہ) کی طرح۔ شیخ جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو ذرا بیٹھ جاتے پھر کھڑے ہوتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 677]
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمارے پاس اس مسجد میں ایک دفعہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے: میں تمہارے سامنے نماز پڑھتا ہوں، حالانکہ میری نیت نماز پڑھنے کی نہیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہیں وہ طریقہ بتاؤں جس طریقے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے۔ (راویِ حدیث ایوب نے کہا:) میں نے ابوقلابہ سے سوال کیا: انہوں نے کس طرح نماز پڑھی تھی؟ ابوقلابہ نے جواب دیا: ہمارے اس بزرگ (حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ) کی طرح۔ ہمارے وہ بزرگ جب پہلی رکعت میں سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے ذرا بیٹھ جایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 677]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة