صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب إذا فاته العيد يصلي ركعتين:
باب: اگر کسی کو جماعت سے عید کی نماز نہ ملے تو پھر دو رکعت پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنَى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنًى.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں (منٰی کے دنوں میں) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بعاث کی لڑائی کی نظمیں گا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر جانے بھی دو یہ عید کے دن ہیں (اور وہ بھی منٰی میں)۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 987]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ایامِ منیٰ میں اس وقت دو لڑکیاں دف بجا کر گیت گا رہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لڑکیوں کو ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا کر فرمایا: ”اے ابوبکر! انہیں اپنی حالت میں رہنے دو، اس لیے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“ اور یہ منیٰ کے دنوں کی بات ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن اپنے حجرہ کے دروازے پر دیکھا۔ اس وقت حبشہ کے کچھ لوگ مسجد میں (نیزوں سے) کھیل رہے تھے (ہتھیار چلانے کی مشق کر رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی چادر میں چھپا لیا تاکہ میں ان کا کھیل دیکھ سکوں۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 454]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے دیکھا جبکہ حبشہ کے کچھ لوگ مسجد میں (جہادی مشقیں کرتے ہوئے) کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے چھپا رہے تھے اور میں ان کا کھیل دیکھ رہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب العيدين/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة