صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب ما يقال في الركوع والسجود:
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1085
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صبیح القرشی) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت (یہ کلمات) کہا کرتے تھے: ”تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ (یہ کلمات) قرآن مجید کی تاویل (حکم کی تعمیل) کے طور پر فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1085]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں بکثرت یہ کلمات کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! ہمارے رب! ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ آپ (یہ کلمات کہ کر) قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1086
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوت: " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا، تَقُولُهَا؟ قَالَ: جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي، إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم (بن صبیح) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے: ”(اے اللہ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری ستائش کرتا ہوں، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ (کلمات) کہوں: ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ...“ سورت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1086]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موت سے پہلے بکثرت یہ کلمات کہتے تھے: ”تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں تجھ سے معافی کا خواستگار ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں (گناہوں سے باز آتا ہوں) عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کلمات جو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے دیکھتی ہوں، اب کیوں شروع کردیئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کی گئی ہے، جب اسے دیکھتا ہوں تو یہ کلمات کہتا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ مکمل سورت پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1087
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، يُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا دَعَا، أَوَ قَالَ فِيهَا: " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سے آپ پر «إذا جاء نصر اللہ والفتح» اتری، اس وقت سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا: ”سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي۔“ ”اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1087]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ آیت اتری، اس وقت سے میں نے ہر نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعائیہ کلمات کہتے دیکھا۔ ”اے میرے رب تو اپنی حمد کے ساتھ تسبیح (پاکیزگی) سے متصف ہے، اے اللہ مجھے بخش دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1088
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: " خَبَّرَنِي رَبِّي، أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي، فَإِذَا رَأَيْتُهَا، أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا {3} سورة النصر آية 2-3 ".
عامر (شعبی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے: ”میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه» ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں تو بکثرت کہوں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه» تو (وہ نشانی) میں دیکھ چکا ہوں۔ «إذا جاء نصر اللہ والفتح» ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے“ (یعنی) فتح مکہ «وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا» ”اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں“ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1088]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرماتے: ”اللہ تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے بخشش کا طالب ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت دعا کرتے ہیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلد ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا۔ اور جب میں اس کو دیکھ لوں تو بکثرت کہوں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، تو میں نشانی دیکھ چکا ہوں، (جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے، اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھیں یا دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے بخشش طلب کیجئے، بلاشبہ وہ قبول فرمانے والا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة