صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب النهي عن بناء المساجد على القبور واتخاذ الصور فيها والنهي عن اتخاذ القبور مساجد.
باب: قبروں پر مسجد بنانے اور ان میں مورتیں رکھنے کی ممانعت، قبروں کو مسجد بنانے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1181
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ، ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ، فِيهَا تَصَاوِيرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُولَئِكِ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكِ الصُّوَرَ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
یحییٰ بن سعید قطان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام نے حدیث سنائی، کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس گرجے کا تذکرہ کیا، جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور اس میں تصویریں آویزاں تھیں، آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ لوگ (قدیم سے ایسے ہی تھے کہ) جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے۔ یہ لوگ قیامت کے روز اللہ عزوجل کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1181]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس گرجے کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، جس میں تصویریں آویزاں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ، جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے، یہ لوگ اللہ عزوجل کے نزدیک قیامت کے روز بدترین لوگ ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ عَائِشَةَ ، أَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ، كَنِيسَةً، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
وکیع نے کہا: ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کی کہ آپ کے مرض الموت میں لوگوں نے آپ کے سامنے آپس میں بات چیت کی تو ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا (پھر اسی کے مانند بیان کیا)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1182]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں باہمی گفتگو کی تو ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا تذکرہ کیا“، آگے اوپر والی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 528 ترقیم شاملہ: -- 1183
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَكَرْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنِيسَةً، رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا: مَارِيَةُ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
(یحییٰ اور وکیع کے بجائے) ابومعاویہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ازواج نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنیسے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا، اسے (کنیسہ) ماریہ کہا جاتا تھا (آگے ان پہلے راویوں کی حدیث کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1183]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اس گرجا کا تذکرہ کیا جو انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا جس کو «مَارِيَة» ”ماریہ“ کہا جاتا تھا، پھر مذکورہ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 528
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة