صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب من احق بالإمامة:
باب: امامت کا مستحق کون ہے؟
ترقیم عبدالباقی: 673 ترقیم شاملہ: -- 1532
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ، أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا، وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ، إِلَّا بِإِذْنِهِ "، قَالَ الأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ: مَكَانَ سِلْمًا، سِنًّا،
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوسعید اشج نے ابوخالد احمر سے، انہوں نے اوس بن ضمعج سے اور انہوں نے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرائے جو ان میں سے کتاب اللہ کو زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر پڑھنے میں برابر ہوں تو وہ جو ان میں سے سنت کا زیادہ عالم ہو، اگر وہ سنت (کے علم) میں بھی برابر ہوں تو وہ جس نے ان سب کی نسبت پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہوں تو وہ جو اسلام قبول کرنے میں سبقت رکھتا ہو۔ کوئی انسان وہاں دوسرے انسان کی امامت نہ کرے جہاں اس (دوسرے) کا اختیار ہو اور اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر اس کی اجازت کے بغیر کوئی نہ بیٹھے۔“ (ابوسعید) اشج نے اپنی روایت میں ”اسلام قبول کرنے میں“ (سبقت) کے بجائے ”عمر میں“ (سبقت) رکھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1532]
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھنے والا ہو اور اگر اس میں یکساں ہوں تو ان میں جو سب سے زیادہ سنت کا علم رکھتا ہو، پس اگر سنت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ امامت کروائے سب سے پہلے مسلمان ہوا ہو اور کوئی آدمی دوسرے آدمی کے اقتدار کی جگہ میں امامت نہ کرائے اور نہ ہی اس کے گھر میں، اس کی اجازت کے بغیر اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھے۔“ اشج نے اپنی روایت میں سِنًّا کہا یعنی ”عمر میں زیادہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1532]
ترقیم فوادعبدالباقی: 673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 673 ترقیم شاملہ: -- 1533
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، وحَدَّثَنَا الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كُلُّهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابومعاویہ، جریر، ابن فضیل اور سفیان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی مانند روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1533]
امام مسلم نے اپنے بہت سے دوسرے اساتذہ سے بھی مذکورہ بالا روایت کو بیان کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1533]
ترقیم فوادعبدالباقی: 673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 673 ترقیم شاملہ: -- 1534
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ، أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ أَوْ بِإِذْنِهِ ".
شعبہ نے اسماعیل بن رجاء سے روایت کی، کہا: میں نے اوس بن ضمعج سے سنا، کہتے تھے: میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کہا: ”قوم کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا اور پڑھنے میں دوسروں سے زیادہ قدیم ہو، اگر ان سب کا پڑھنا ایک سا ہو تو وہ امامت کرے جو ہجرت میں قدیم تر ہو، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو وہ امامت کرے جو ان سب سے عمر میں بڑا ہو اور تم کسی شخص کے گھر اور اس کے دائرہ اختیار میں اس کے امام نہ بنو اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی قابل احترام نشست پر بیٹھو، ہاں اس صورت میں کہ وہ تمہیں (اس بات کی) اجازت دے۔“ یا (فرمایا:) ”اس کی اجازت سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1534]
ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں سب سے زیادہ کتاب اللہ تعالیٰ کا پڑھنے والا ہو اور قرأت میں سب سے آگے ہو اگر وہ قرأت میں برابر ہوں تو ان کا امام وہ شخص بنے جو ہجرت میں سب سے آگے ہو، اگر ہجرت میں مساوی ہوں تو ان کی امامت وہ شخص کرے جو ان میں عمر میں بڑا ہو۔ اور کسی آدمی کی اس کے گھر میں اور اس کے اقتدار میں امامت نہ کرو اور نہ اس کے گھر میں اس کی عزت و تکریم کی جگہ پر بیٹھو، اِلَّا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے یا اس کی اجازت سے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1534]
ترقیم فوادعبدالباقی: 673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة